حکومت نے ہاسپٹل کو ترقی دینے کے بجائے تعطل کا شکار بنادیا
حیدرآباد۔12۔اکٹوبر(سیاست نیوز) دواخانہ عثمانیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت نے اس کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے اسے تعطل کا شکار بنایا ہے جس کے نتیجہ میں دواخانہ عثمانیہ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے۔ دواخانہ عثمانیہ کی جگہ نئی عمارت یا موجودہ تاریخی عمارت کی تزئین نو و آہک پاشی کے اقدامات کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے ٹال مٹول کی پالیسی کے نتیجہ میں دواخانہ عثمانیہ کی ترقی میں کئی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں اور مسئلہ عدالت میں زیر دوراں ہونے کے نتیجہ میں اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست کے دیگر مقامات بلکہ شہر کے نواحی علاقو ںمیں سرکاری دواخانوں کو بہتربنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں لیکن پرانے شہر سے قریب اس دواخانہ کی تعمیر و مرمت کے معاملہ میں حکومت کی لاپرواہی کے نتیجہ میں شہریوں کو سرکاری دواخانہ کی سہولت سے محروم ہونا پڑرہا ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد تاریخی عمارتوں کو مٹانے کی پالیسی کے تحت دواخانہ حکومت نے دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کو منہدم کرتے ہوئے اس کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر کے اقدامات کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں جاریہ سال حکومت کی جانب سے عدالت میں داخل کئے گئے ایک حلف نامہ میں کہا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے عثمانیہ دواخانہ کی تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کے فیصلہ سے واقف کروایا تھا اور کہا تھا کہ اس عمارت کو منہدم کرتے ہوئے اس کی جگہ نئی عمارت کی تعمیر کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن اب تک بھی اس سلسلہ میں کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے اور اب جبکہ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے تو ایسی صورت میں دواخانہ عثمانیہ کی نئی عمارت کی تعمیر کے اقدامات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتابلکہ اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے بھی الیکشن کمیشن سے خصوصی اجازت حاصل کرنی ہوگی ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت دواخانہ عثمانیہ کی نئی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں اس طرح کے کوئی اقدامات کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ عدالت کا فیصلہ اگر صادر ہوتا بھی ہے تو یہ فیصلہ لیت و لعل کا شکار ہوجائے گا ۔ دواخانہ عثمانیہ میں سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ انہیں بہتر بنانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے حالانکہ اگر حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے اقدامات کئے جاتے تو کم از کم دواخانہ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا تھا ۔