رپورٹ نظر انداز ، تاریخی عمارتوں کے ماہر جی ایس وی سوریہ نارائنا مورتی کا ادعا
حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد کے 100سالہ قدیم عثمانیہ دواخانہ کی تاریخی عمارت میں پانی جمع ہونے اور پانی کے بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے سال 2013 میں ہی حکومت کو واقف کرواجاچکا تھا اور حکومت کی جانب سے اس 500 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے ماہر مسٹر جی ایس وی سوریہ نارائنا مورتی نے سال 2013 میں عثمانیہ دواخانہ کی تاریخی عمارت کا معائنہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ ریاستی حکومت کو روانہ کی تھی اور تشکیل تلنگانہ کے بعد بھی ریاستی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کا جائزہ لیا گیا ۔ مسٹر مورتی نے اپنی رپورٹ میں دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کے تحفظ اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلہ میں اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے دواخانہ کی چھت پرپانی کو روکنے کے لئے پیدا کی گئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ چھتوں کو گچی کے ذریعہ بہتر بنانے پر زور دیا تھا علاوہ ازیں پانی کے بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو دورکرنے کے لئے بھی مختلف تجاویز پیش کی تھیں لیکن اس رپورٹ پر حکومت کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور سال 2014میں تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اقتدار حاصل کیا اور سال 2015 میں اس عمارت کو منہدم کرنے کے فیصلہ کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف ہونے والے احتجاج کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے اس منصوبہ کو پس پشت ڈال دیا لیکن دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کی آہک پاشی اور تزئین نو کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ سال 2019میں ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد میں کئی اہم تاریخی عمارتوں کی آہک پاشی اور تزئین نو کے کام انجام دینے والی کمپنی کی جانب سے اس رپورٹ کی بنیاد پر دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلہ میں تخمینہ لگانے کے بعد ایک رپورٹ حکومت کو روانہ کی گئی لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ دئیے جانے پر مذکورہ کمپنی نے پراجکٹ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ دواخانہ عثمانیہ میں چھت سے پانی ٹپکنے کے علاوہ پانی کے بہاؤ میں ہونے والی دشواریوں کے سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ روانہ کئے جانے کے باوجود اسے نظر انداز کرنے کی پالیسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس تاریخی عمارت کو منہدم ہونے کے لئے چھوڑدیا گیا ہے اور حکومت کو اس عمارت کے تحفظ اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی سے زیادہ اس کے انہدام میں دلچسپی ہے جس کے سبب اس عمارت کو نظر انداز کیا جا رہاہے۔
