حیدرآباد ۔5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : خواتین و اطفال کے علاج و معالجہ کے لیے مشہور حکومت کے بڑے دواخانہ نیلوفر کو میگنٹیک ریزونینس امیجنگ ( MRI ) اسکین کے لیے آنے والے مریضوں کو اس دواخانہ میں مشکل حالات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے کیوں کہ اس دواخانہ میں ایم آر آئی اسکیان کرنے کے لیے ایکوپـمنٹ یا مشینس نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ انہیں ایم این جے کینسر ہاسپٹل سے رجوع کیا جارہا ہے جہاں ایکوپـمنٹ ہے ۔ نیلوفر ہاسپٹل کے ڈاکٹرس مریضوں کو ایم آر آئی کے لیے ایم این جے کو جانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ صحت کے سنگین مسائل سے دوچار کئی خواتین اور بچوں کو ، ان میں زیادہ تر ایمرجنسی میں ہوتے ہیں ۔ آئی سی یو بیڈس پر ان کی باری کا انتظار کرنے کے لیے چھوڑ دیا جارہا ہے ۔ نیلوفر دواخانہ کے روبرو واقع ایم این جے پر مریض مہینوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ اسٹاف کی جانب سے چھ ماہ سے کم وقت میں ایم آر آئی نہیں کیا جاتا ہے ۔ بعض کیسیس میں مریضوں کو اس ٹسٹ کے لیے 3000 روپئے ادا کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ ڈاکٹرس کے مطابق ایم آر آئی اسکیان اعضا اور جسم کے اندر کی حالت معلوم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ ایم آر آئی ڈاکٹرس کی جانب سے مرض کی تشخیص اور علاج کرنے میں معاون ہوتا ہے ۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ نیلوفر ہاسپٹل کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ نیلوفر دواخانہ میں ایم آر آئی نہیں ہے ۔
ایم این جے کے لوگ چھ ماہ سے کم وقت میں یہ ٹسٹ آسانی سے نہیں کررہے ہیں ۔ چونکہ اضلاع اور دیہاتوں سے غریب مریض علاج کے لیے نیلوفر دواخانہ پہنچتے ہیں اس لیے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ اس دواخانہ میں اس سہولت کا ہونا نہایت ضروری ہے ۔