دوباک ا سمبلی حلقہ میں کامیابی کیلئے قائدین کا اتحاد اہمیت کا حامل

,

   

مانکیم ٹیگور ایم پی کا خطاب، سینئر قائدین کے ساتھ مشاورت، عوام حکومت سے ناراض

حیدرآباد۔جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور ایم پی نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کو اپنے لئے وقار کا مسئلہ بنائیں اور پارٹی کی کامیابی کیلئے متحدہ طور پر جدوجہد کریں۔ دوباک اسمبلی حلقہ کے چناؤ کے سلسلہ میں مانکیم ٹیگور نے آج اندرا بھون میں سینئر قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو، سرینواسن کرشنن، ومشی چند ریڈی ، سمپت کمار، سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر، کسم کمار، رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، ارکان اسمبلی سیتکا، جگا ریڈی، رکن کونسل جیون ریڈی، پونالہ لکشمیا، وی ہنمنت راؤ، بلرام نائیک، ایم ششی دھر ریڈی، دامودھر نرسمہا، انجن کمار یادو، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، کے سریکھا، این شاردا، ڈی شراون کے علاوہ میدک اور سنگاریڈی سے تعلق رکھنے والے قائدین نے شرکت کی۔ مانکیم ٹیگور نے تمام قائدین کی رائے حاصل کرنے کے بعد کہا کہ جن قائدین کو مواضعات کا انچارج مقرر کیا گیا ہے وہ اپنے اپنے علاقوں تک محدود رہیں اور سرگرمی کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی حکومتوں کے خلاف عوام میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے اور کانگریس پارٹی کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ مانکیم ٹیگور نے گورنر کی جانب سے کانگریس قائدین کو ملاقات کا وقت نہ دیئے جانے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں سے ملاقات نہ کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور دیگر افراد کو گورنر نے ملاقات کا وقت دیا ہے جس سے گورنر بی جے پی اور ٹی آر ایس میں ملی بھگت ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے درمیان رہتے ہوئے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں جبکہ ٹی آر ایس کو دولت اور اقتدار پر بھروسہ ہے۔ اتم کمار ریڈی نے قائدین کو ہدایت دی کہ وہ اے آئی سی سی کی اپیل کے مطابق پیر کو ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کیلئے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی پہنچے لیکن حکومت اور پولیس کا رویہ افسوسناک رہا۔ انہوں نے دوباک اور کونسل کے انتخابات کے سلسلہ میں قائدین کو متحرک رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کونسل کیلئے فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کانگریس کی کامیابی میں اہم رول ادا کرے گی۔