دوباک ضمنی چناؤ پرامن، مجموعی طور پر 81.44 فیصدووٹنگ

   

رائے دہندوں نے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ مشینوں میں محفوظ کردیا، 10 نومبر کو نتائج

حیدرآباد : اسمبلی حلقہ دوباک کے ضمنی انتخاب میں شام 5 بجے تک 81.44 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ شام 5 تا 6 بجے تک کورونا سے متاثر افراد کو حق رائے دہی سے استفادہ کا موقع فراہم کیا گیا۔ سوائے چند ایک مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ناکارہ ہونے کے مجموعی طور پر رائے دہی پرامن رہی۔ رائے دہندوں نے مقابلہ کرنے والے 23 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ کردیا۔ 10 نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اسٹیٹ الیکشن آفیسر شیشانک گوئل نے بتایا کہ رائے دہی پرامن رہی۔ کہیں سے بھی کوئی شکایت وصول نہیں ہوئی۔ کل کے واقعہ پر کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔ صبح 7 بجے سے پولنگ کا آغاز ہوا۔ کوویڈ کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کرتے ہوئے رائے دہندوں میں گلوز، ماسک اور سینٹی ٹائزرس تقسیم کئے گئے۔ سماجی فاصلہ کو یقینی بنایا گیا۔ ساتھ ہی کورونا سے متاثر رائے دہندوں کو پی پی ای کٹس پہناکر ایمبولنس کے ذریعہ مرکز رائے دہی تک پہنچایا گیا۔ شیشانک گوئل اچانک اسمبلی حلقہ دوباک کا دورہ کرتے ہوئے لچا پیٹ مرکز رائے پہنچ گئے اور رائے دہی کا جائزہ لیا اور عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کیں ۔ عہدیداروں نے انھیں بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ناکارہ ہونے پر ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔ کلکٹر سدی پیٹ بھارتی ہولکری نے بھی مختلف مراکز رائے دہی کا معائنہ کیا۔ بعض مقامات پر پولنگ عہدیداروں کے پاس ٹیلیفون موجود رہنے پر انہوں نے برہمی کا اظہار کیا۔ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے سدی پیٹ میں اپنی قیامگاہ میں بیٹھ کر رائے دہی کا جائزہ لیا۔ ان کے ساتھ مختلف منڈلس کے انچارج ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل بھی موجود تھے۔ جن علاقوں سے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین ناکارہ ہونے کی اطلاعات وصول ہوئیں انھوں نے فوری متعلقہ عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہوئے ان کو درست کرنے کا مشورہ دیا۔ چیگنٹہ میں ایک فرضی ووٹ درج ہوا ہے۔ عہدیداروں نے اس کی نشاندہی کی۔ حقیقی ووٹر نے اپنی برہمی کا اظہار کیا جس کے بعد پریسائیڈنگ آفیسر نے حقیقی ووٹر کو ٹنڈر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی۔ بھلے ہی مقابلہ میں 23 امیدوار ہیں مگر اصل مقابلہ ٹی آر ایس، بی جے پی اور کانگریس میں ہی رہا۔ اسمبلی حلقہ دوباک کے 148 مواضعات میں جملہ 315 پولنگ مراکز قائم کئے گئے۔ جن میں 89 کی حساس مراکز کے طور پر نشاندہی کرتے ہوئے وہاں پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا۔ ٹی آر ایس کی امیدوار ایس سجاتا نے دوباک منڈل کے چٹاپور گاؤں میں‘ بی جے پی کے امیدوار رگھونندن راؤ نے دوباک منڈل کے بوپاپور گاؤں میں اورکانگریس کے امیدوار سی سرینواس ریڈی نے توگٹہ منڈل میں ووٹ دیا۔ کانگریس کے امیدوار توگٹہ منڈل ہیڈکوارٹر کے پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف جھوٹی مہم چلانے والے ٹی وی چیانلس اور سوشل میڈیا کے خلاف شکایت درج کروائی اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔