دوباک میں پوسٹل بیالٹ کے نام پر ٹی آر ایس کے حق میں رائے دہی

   

کانگریس قائد ہنمنت راؤ کا احتجاج، رازدارانہ طور پر رائے دہی کا الزام
حیدرآباد: دوباک اسمبلی حلقہ میں پوسٹل بیالٹ کے تحت رائے دہی کا مرحلہ آج مکمل کرلیا گیا جس پر کانگریس پارٹی نے سخت احتجاج کیا ہے۔ 3 نومبر کو رائے دہی مقرر ہے لیکن معذورین اور 90 سال سے زائد عمر کے رائے دہندوں کو پوسٹل بیالٹ کی سہولت فراہم کرتے ہوئے آج رائے دہی کرائی گئی ۔ رائے دہی کے سلسلہ میں جو فہرست تیار کی گئی تھی ، وہ کانگریس امیدوار کو فراہم نہیں کی گئی جس پر کئی شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے الزام عائد کیا کہ دوباک میں تقریباً 5,000 پوسٹل بیالٹ کے ذریعہ ٹی آر ایس کے حق میں رائے دہی کرائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کیریئر میں اس طرح کی انتخابی بدعنوانی پہلی بار دیکھنے کو ملی ہے ۔ ہنمنت راؤ جو دوباک کے انتخابی مہم میں مصروف ہیں، الیکشن کمیشن سے اس سلسلہ میں شکایت کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بند طریقہ سے معذورین اور ضعیف افراد کی فہرست تیار کی گئی اور دو دن قبل انہیں ٹی آر ایس کی جانب سے فی کس دو تا تین ہزار روپئے تقسیم کئے گئے ۔ عہدیداروں کے ساتھ آج پوسٹل بیالٹ رائے دہندوں کے مکانات لے جائے گئے جہاں ٹی آر ایس کے حق میں رائے دہی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ فہرست رائے دہندگان کانگریس اور دیگر قومی جماعتوں کے امیدواروں کو دیا جانا چاہئے تھا ۔ یہ سارا عمل راز میں رکھا گیا تاکہ ٹی آر ایس کے حق میں رائے دہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدیداروں کی نگرانی میں ٹی آر ایس کے حق میں بوگسنگ کی گئی ہے جو 3 نومبر کی رائے دہی کا ریہرسل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی بھاری رقومات خرچ کرتے ہوئے ووٹ خریدنا چاہتی ہے۔