چیف منسٹر کے سی آر ناراض، قائدین بی جے پی کی خاموش لہر کا اندازہ کرنے میں ناکام
حیدرآباد۔ دوباک ضمنی چناؤ کے نتیجہ نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب کے سی آر کی انتخابی حکمت عملی کو دھکہ لگا۔ چیف منسٹر نے دوباک انتخابی مہم کی ذمہ داری وزیر فینانس ہریش راؤ کے سپرد کی تھی جبکہ کارگذار صدر کے ٹی آر حیدرآباد سے انتخابی مہم کی نگرانی کررہے تھے۔ بی جے پی کی بڑھتی طاقت کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس نے پہلے سے چوکسی اختیار کرلی تھی تاہم سابق رکن اسمبلی متیم ریڈی کے فرزند سرینواس ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کے بعد ٹی آر ایس کو اطمینان ہوگیا تھا کہ ان کی امیدوارہ کی باآسانی کامیابی ہوگی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق انٹلیجنس نے حکومت کو رائے دہی کے بعد بھی جو رپورٹ پیش کی اس میں ٹی آر ایس کی کامیابی کی پیش قیاسی کی تھی۔ نتیجہ کے بعد انٹلیجنس رپورٹ بھی غلط ثابت ہوئی۔ انٹلیجنس رپورٹ کے غلط ثابت ہونے پر بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ناراض ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ عہدیداروں نے سطحی انداز میں کام کرتے ہوئے محض مہم کی بنیاد پر رپورٹ پیش کردی جبکہ بی جے پی نے زمینی طور پر رائے دہندوں کو تبدیل کرنے کا کام کیا۔ دوباک میں رائے دہی کے دن بھی یہ تاثر نہیں ملا کہ عوام بی جے پی کے حق میں ہیں۔ خاموش رائے دہی کے ذریعہ خاص طور پر نوجوانوں اور کسانوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے مختلف اداروں سے جو سروے کرایا تھا اس میں بھی کم اکثریت سے سہی لیکن کامیابی کا دعویٰ کیا گیا۔ انٹلیجنس، خانگی اداروں اور پارٹی قائدین تینوں نے چیف منسٹر کو کامیابی کا بھروسہ دلایا تھاجو نتیجہ کے بعد غلط ثابت ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے دوباک کی شکست کی وجوہات کا اپنے قریبی ساتھیوں اور عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ دوباک کی طرح گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں بی جے پی مظاہرہ نہ کرسکے۔ بی جے پی کے بڑھتے قدم روکنے کیلئے ٹی آر ایس حکمت عملی تیار کرے گی۔ سیاسی مبصرین نے دوباک کے نتیجہ کو عوام کی حکومت سے ناراضگی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے تلنگانہ میں بی جے پی کے موقف میں بہتری کی پیش قیاسی کی ہے۔