کورونا کے علاج کو آروگیہ شری اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی فوت ہونے والوں کو معاوضہ ادا کیا گیا
کیرالا، بہار، مدھیہ پردیش، کرناٹک، دہلی میں معاوضہ کا اعلان، بچوں کی تعلیم مفت اور پنشن کا اعلان
حیدرآباد : کورونا کی دوسری لہر نے جہاں کئی شعبوں کو تباہ و برباد کیا ہے وہیں کئی خاندان بڑے پیمانے پر بکھر گئے ہیں۔ کورونا وبا سے متاثر ہونے کے بعد کئی بچے، ماں باپ سے محروم ہوگئے۔ کئی خواتین بیوہ ہوگئیں اور متعدد ضعیف والدین اپنے جوان بچوں سے محروم ہوگئے، کئی ایسے بھی ضعیف افراد ہیں ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت مشکل ہوگئی ہے۔ سینکڑوں خاندان کئی مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ملک کی کئی ریاستوں نے متاثرین کو جہاں لاکھوں میں معاوضہ ادا کررہی ہیں بلکہ یتیم بچوں کے تعلیم کی ذمہ داریاں قبول کررہی ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تلنگانہ کو ایک دولتمند ریاست قرار دیتے ہیں مگر اس جانب کبھی ہمدردانہ غور نہیں کیا، نہ ہی کورونا کی وبا کو آروگیہ شری اسکیم میں شامل کیا اور نہ ہی کورونا سے فوت ہونے والوں کیلئے کوئی معاوضہ کا اعلان کیا اور نہ ہی یتیم بچوں کی تعلیمی ذمہ داری قبول کی۔ کورونا کے علاج کیلئے کئی غریب و متوسط خاندان نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کردی۔ کئی لوگوں نے اپنی جائیدادوں کو رہن رکھا تو بعض لوگوں نے فروخت کردیا۔ بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود کئی لوگ زندہ باقی نہیں رہے۔ کورونا نے کئی خاندانوں کو مقروض کردیا ہے۔ ملک کی چند ایسی ریاستیں ہیں جنہوں نے کئی خاندانوں کی مدد کی ہے۔ مثال کے طور پر کیرالا میں کورونا سے فوت ہونے والوں کے ورثا کو 3 لاکھ معاوضہ ادا کررہی ہے۔ ڈگری کی تعلیم مکمل ہونے تک کورونا سے فوت ہونے والے افراد کے بچوں کو ماہانہ 2 ہزار روپئے پنشن فراہم کررہی ہے۔ پسماندہ ریاستوں کی فہرست میں شمار ہونے والے ریاست بہار میں کورونا سے فوت ہونے والے افراد کے ورثا میں 4 لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کررہی ہے۔ دہلی کی کجریوال حکومت نے کورونا سے فوت ہونے والے افراد کے ورثہ میں جہاں 50 ہزار روپئے ادا کررہی ہے، وہیں 25 سال تک خاندان کو معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں جہاں ایک لاکھ روپئے ادا کیا جارہا ہے، وہیں کرناٹک میں 50 ہزار روپئے دیا جارہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں سرکاری اعدادوشمار کے لحاظ سے فوت ہونے والوں کی تعداد 32.26 ہوگئی جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار کے لحاظ سے 10 ہزار سے زائد لوگ فوت ہوئے ہیں۔ ریاست میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کورونا سے فوت ہونے والے افراد کے ورثہ میں معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ یتیم ہونے والے بچوں کو بھی سہارا دینے پر زور دیا جارہا ہے، لیکن چیف منسٹر کے سی آر خاموش ہے۔