دونوں تلگو ریاستوں میں تحفظات سے مسلمانوں کو بے حد فائدہ

   

نظام آباد میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے 30 سال کی تکمیل پر تہنیتی تقریب‘ محمد علی شبیر کا خطاب
نظام آباد۔ 5؍ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کے 30 سال کی تکمیل کے موقع پرمشیر حکومت تلنگانہ محمد علی شبیر کی زبردست تہنیت پیش کی گئی۔ نظام آباد کے دورہ کے موقع پر پرائم سکول آف ایکسیلنسی کی جانب سے محمد علی شبیر کی تحفظات کی فراہمی کامیاب نمائندگی اور اسے قانونی شکل دینے میں کئے گئے جدوجہد پر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی گئی۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے کہا کہ تحفظات نہ ہونے کی وجہ سے ہی میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکا ۔جبکہ میرے ساتھی انجینئر بنے، لیکن میں انجینئر نہیں بن سکا محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ ملک ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں پر آزادی کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے ایس سی طبقے کو تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کیا تھا جس کی وجہ سے یہ طبقہ ایک فیصد سے 30 فیصد تعلیم یافتہ بن گئے ہیں اور اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہیں۔ آزادی کے بعد مسلمان 30 فیصد تعلیم یافتہ تھے لیکن یہ تناسب گھٹتا ہوا ہے ایک فیصد ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں میں تعلیمی، معاشی سماجی پسماندگی ہے اسے دور کرنے کے لیے ہمیشہ میں فکر مند تھا 1994 میں پہلی مرتبہ وجے بھاسکر ریڈی کی کابینہ میں شامل ہونے کے بعد ہمیشہ اس مسئلے پر چیف منسٹر سے نمائندگی کرتا رہا اور مسلمانوں کے سماجی، معاشی تعلیمی، پسماندگی کو دور کرنے کے لیے کوشش کرتا رہا جس کے نتیجے میں وجئے بھاسکر ریڈی نے محکمہ اقلیتی بہبود کا محکمہ قائم کیا تھا اور اس وقت کا بجٹ 2 ہزارکروڑ روپے مختص کیا تھا محمد علی شبیر نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی کی کابینہ میں اقلیتی بہبود کے وزیر کی حیثیت سے تحفظات کی فراہمی میں جدوجہد کرتے ہوئے چار فیصد تحفظات کو حاصل کیا، لیکن ان تحفظات کو برخاست کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی وزیر داخلہ امت شاہ اس کی برخواستگی کے لیے کوشاں ہے اورامیت شاہ واضح طور پر اس سے برخاست کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ذاتی فنڈ سے اس کی پیروی کی جا رہی ہے چار فیصد تحفظات کی وجہ سے دونوں تلگو ریاستوں میں مسلمانوں کو بے حد فائدہ حاصل ہوا ہے اور کئی ڈاکٹرس انجینئرس اور دیگر پروفیشنل کورسوں میں داخلہ لیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پرچار کمیٹی کے صدر محمد جاوید اکرم، ٹاؤن کانگریس صدر کیشاوینو،ا سکول کے چیئرمین ڈاکٹر لقمان احمد خان ،کو چیئرمین محمد رومان الدین ،پرنسپل عبدالمدثر احمد ، سینئر کانگرس قائد حامد بن غانم، کانگریسی قائدین این رتنا کر، گڑگو گنگادھر اس کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔