دونوں تلگو ریاستوں کی یکساں ترقی اور بھلائی تلگو دیشم کی پالیسی

   

امراوتی بل کی منظوری کا خیرمقدم، راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو کا بیان
حیدرآباد ۔3 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں امراوتی بل کی منظوری تلگو باشندوں کیلئے خوشی اور مسرت کا باعث ہے اور یہ ایک تاریخی اقدام ہے ۔ راجیہ سبھا میں امراوتی کو قانونی درجہ دینے سے متعلق بل کی مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے کی جانب سے پیشکشی کے بعد مباحث میں حصہ لیتے ہوئے رام موہن نائیڈو نے کہا کہ تلگو عوام امراوتی کو دارالحکومت کا درجہ دینے کے خواہشمند ہیں اور مرکزی حکومت نے عوامی خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے قانون سازی کی ہے۔ رام موہن نائیڈو نے کہا کہ بل کو تمام پارٹیوں کی تائید حوصلہ افزاء اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم جدید قانون میں صرف ایک ریاست کو دارالحکومت فراہم کی گئی تھی جبکہ دوسری ریاست کو دارالحکومت نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ریاست کی تقسیم کی مخالف نہیں ہے لیکن دارالحکومت کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی حکومت نے ملک میں تین نئی ریاستیں تشکیل دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے وقت آندھراپردیش کے خزانہ کو 16 ہزار کروڑ کا نقصان تھا لیکن چندرا بابو نائیڈو نے چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد 5 کروڑ عوام کے امنگوں کی تکمیل کرتے ہوئے ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تلگو ریاستوں کی یکساں طور پر ترقی تلگو دیشم کے پیش نظر ہے۔ امراوتی کی تعمیر کیلئے کسانوں نے اپنی اراضیات کو پیش کیا ہے اور کسانوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس حکومت نے تین علحدہ دارالحکومتوں کے قیام کی کوشش کی جو ریاست کی بھلائی میں نہیں تھا۔ عوام نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں امراوتی کے حق میں قرارداد منظور کی گئی تھی۔ رام موہن نائیڈو نے یقین ظاہر کیا کہ قانون سازی کے بعد امراوتی عالمی معیار کے دارالحکومت کے طورپر ترقی کرے گا۔1