موسم گرما میں مزیدشدت سے قبل تلنگانہ کے متعدد مقامات پرزیر زمین سطح آب بھی تشویشناک
حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) تلنگانہ میں جاری موسم گرما کے گرم ترین دن ابھی آنے کو ہیں کہ اس سے پہلے ہی ریاست کے اکثر ذخائر، پانی کی کمترین سطح کے سبب ایسا لگتا ہے کہ جواب دے چکے ہیں جن میں دونوں شہروں کے ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر میں شامل ہیں۔ جس کے پیش نظر پانی کی سربراہی کے بارے میں مختلف خدشات لاحق ہوچکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اپریل کے ابتدائی پندرہ دن کے دوران ذخائر آب کی صورتحال کے رواں سال کی سطح سے تقابل سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کی شدید قلت کا خطرہ لاحق ہے۔ ریاست کے کئی حصوں اور بالخصوص شہر حیدرآباد کے کئی علاقے پہلے سے پانی کی قلت کے مسئلہ کا سامنا کررہے ہیں۔ بعض شہری علاقوں میں دو یا تین دن میں ایک مرتبہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کے کئی کالونیوں میں واٹر ٹینکرس سے پانی حاصل کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں نہ صرف مختلف ذخائر آب تقریباً خشک ہوچکے ہیں بلکہ پانی کی زیر زمین سطح بھی بہت کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے آبرسانی کا مسئلہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔ مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے حیدرآباد واٹر بورڈ گزشتہ ماہ 2000 واٹر ٹینکرس کے برخلاف اس ماہ روزانہ 5000 واٹر ٹینکرس کے ذریعہ پانی سربراہ کررہاہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کو یومیہ 460 ملین گیالن پانی درکار ہے اور اس کوکرشنا اور گوداوری پراجکٹوں کے علاوہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر سے یومیہ 430 ملین گیالن پانی حاصل ہورہا ہے۔ تاہم دریائے کرشنا اور گوداوری میں بھی اب پانی کی سطح مسلسل کم ہورہی ہے جس سے آبرسانی کا مسئلہ مزید سنگین ہوچکا ہے۔
