حیدرآباد کے علاوہ سکندراباد کے بھی کچھ بازاروں میں از خود لاک ڈاون ۔ سڑکوں پر ٹریفک میں بھی کمی
حیدرآباد : دونوں شہروں کے کئی تاجرین نے رضا کارانہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ کورونا وائرس پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے ۔ حکومت کی جانب لاک ڈاؤن میں رعایت کے اعلان کے بعد سے بتدریج کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور گذشتہ چند ہفتوں سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں یومیہ سینکڑوں مریضوں کی نشاندہی ہونے لگی تھی جو کہ عوام میں تشویش کا سبب بنتی جا رہی ہے ۔ گذشتہ ہفتہ بیگم بازار کے تاجرین نے تجارتی اوقات میں کمی کا اعلان کیا لیکن اب شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی بازاروں میں تاجرین کی تنظیموں کی جانب سے ایک تا دو ہفتہ کے مکمل لاک ڈاون کا اعلان کرتے ہوئے بازاروں کو بند کردیا گیا ہے ۔ شہر کے سرکردہ بازاروں میں لاڈ بازار ، ترپ بازار ، جنرل بازار ، بیگم بازار کے علاوہ دیگر کئی بازاروں میں آج سے دکانات مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں تاکہ کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ شہر کے بازاروں میں عوام و تاجرین کی جانب سے رضاکارانہ بند کے اعلان کے بعد شہر کی کئی سڑکوں پر ٹریفک بھی کافی کم دیکھی گئی ۔ تاجرین نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس رضاکارانہ بند کی سنجیدگی اور کورونا وائرس کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی اور اپنے چاہنے والوں کی زندگی کو محفوظ بنائیں اور کسی شدید ضرورت کے بغیر گھروں سے نکلنے سے اجتناب کریں ۔ جنرل بازار ، تمباکو بازار ، لاڈ بازار کے علاوہ شہر کے جن بازاروں نے بند کا اعلان کیا ہے ان میں آج ایک بھی دکان کھلی نہیں رہی اور لاک ڈاون کی طرح مکمل بازار بند رہے ۔ بازاروں میں پائی جانے والی گہما گہمی اور عوامی اژدھام کے سبب سماجی فاصلہ کی برقراری میں ناکامی کی وجہ سے کورونا وائرس کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے جس انداز میں لاک ڈاؤن کے دوران سختی سے بازار بند رکھنے اقدامات کئے گئے تھے اسی طرح اب ذمہ دار تاجرین نے رضاکارانہ طور پر لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کوٹھی اور کنگ کوٹھی کے علاوہ امیر پیٹ ، پنجہ گٹہ اور دیگر علاقوں میں بھی تاجرین کی جانب سے دکانات رضاکارانہ طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کورونا وائرس پر قابو پانے لازمی ہے کہ سماجی فاصلہ کے ساتھ متاثرہ مریض کو الگ تھلگ کرنے کے اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ مریض کے بہتر علاج کو یقینی بنایا جائے ۔