دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سربراہی ہنوز متاثر

   

حیدرآباد۔27۔اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی سربراہی اب بھی متاثر ہونے لگی ہے اور نئے علاقوں میں انٹرنیٹ سربراہی منقطع ہونے پر عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ سیلولرآپریٹرس اسوسیشن آف انڈیا کی جانب سے نئے علاقوں میں انٹرنیٹ سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل کو عدالتی احکام کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے دوبارہ عدالت سے رجوع ہونے اور تحقیر عدالت کے مقدمہ دائر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے برقی کھمبوں پر موجود انٹرنیٹ کیبل کو کاٹ دیئے جانے کے معاملہ پر جاری ہنگامہ آرائی میں آج اس وقت اضافہ ہوا جب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود نئے علاقوں میں انٹرنیٹ سربراہی بند ہونے کی شکایات موصول ہونے لگیں۔ شہر حیدرآباد میں برقی تاروں سے ٹکرانے کے سبب ہونے والی 9 اموات کے بعد ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل نے حکومت کی ہدایات کے بعد کاروائی کرتے ہوئے برقی کھمبوں پر موجود کیبل تاروں کو کاٹنے کے اقدامات کا آغاز کیا تھا لیکن ائیر ٹیل اور جیو کمپنی نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے عدالت میں اس کاروائی کے خلاف درخواست داخل کی تھی جس کی سنوائی کے بعد عدالت نے ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر لائسنس یافتہ کیبل کو نکالنے کے اقدامات کریں ۔ عدالت کی ہدایات کے بعد بھی ائیرٹیل اور جیو کمپنی کے براڈ بینڈ لائنوں کو منقطع کرنے کی شکایات موصول ہونے پر سیلولر آپریٹرس اسوسیشن آف انڈیا نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل عدالتی احکامات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انٹرنیٹ کیبل کو کاٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 3
بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ شب چمپا پیٹ‘ سرورنگر‘ آئی ایس سدن‘ سکندرآباد‘ منی کنڈہ ‘ حبشی گوڑہ ‘ خیریت آباد‘ سوماجی گوڑہ ‘ کوم پلی ‘ بنجارہ ہلزکے علاوہ شہر کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سربراہی منقطع ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں شہروں میں انٹرنیٹ سربراہی منقطع ہونے کے نتیجہ میں بینک کاری نظام کے علاوہ تجارتی سرگرمیوںپر بھی اس کا اثر پڑرہا ہے ۔ انٹرنیٹ کو لازمی خدمات میں شامل کئے جانے کے باوجود کی جانے والی اس کاروائی کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ دونوں شہروں میں ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل کی کارروائیوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ برقی سربراہی نظام کو مؤثر بنانے کے اقدامات ہیں۔ 3