دو اہم ماؤسٹ قائدین کی خود سپردگی ، میڈیا کے روبرو پیش

   

چیف منسٹر کی اپیل پر تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ

حیدرآباد۔ 28 اکٹوبر (سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) سے وابستہ 2 اہم قائدین نے تلنگانہ پولیس کے روبرو خودسپردگی اختیار کرلی۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس تلنگانہ بی شیودھر ریڈی نے خودسپرد ہونے والے ماؤسٹ قائدین بی پرساد راؤ عرف شنکر انا اور بنڈی پرکاش عرف پربھات کو میڈیا کے روبرو پیش کیا۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ پرساد راؤ گزشتہ 45 سال سے روپوش تھا اور اس کا تعلق پیداپلی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس سی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1979ء میں ریاڈیکل اسٹوڈنٹ یونین میں شامل ہوا اور بعدازاں گزشتہ 45 سال میں ماؤسٹ پارٹی میں مختلف عہدوں پر کام کرتا رہا۔ پچھلے 17 سال سے پرساد راؤ سنٹرل کمیٹی کا رکن بھی تھا۔ اسی طرح 55 سالہ بنڈی پرکاش عرف پربھات جس کا تعلق تلنگانہ کے ضلع منچریال سے ہے، گزشتہ 42 سال سے روپوش تھا اور ماؤسٹ پارٹی میں مختلف عہدوں پر کام کرتا رہا۔ 1984ء میں سی پی آئی لیڈر وی ٹی ابراہم کے قتل کیس میں ملوث ہونے کے بعد اسے پولیس نے گرفتار کیا تھا اور 1988ء میں عادل آباد سب جیل میں منتقل کیا گیا تھا، وہاں پر اس نے اپنا تعلق محمد حسین نلا آدی ریڈی رتنا گوڑ سے کرتے ہوئے جیل سے فرار ہوگیا اور پھر سے روپوش ہوگیا۔ پولیس نے اسے 1992ء میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں عمر قید کی سزا سنائی لیکن 15 اگست 2004ء میں حکومت نے رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے رہا کردیا۔ 2004ء میں ماؤسٹ پارٹی اور آندھرا پردیش حکومت کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد وہ دوبارہ روپوش ہوگیا اور ماؤسٹ پارٹی میں سرگرم ہوگیا۔ 2015ء سے اب تک سنگارینی کول بیلٹ کمیٹی کا انچارج رہا۔ ڈی جی پی شیودھر ریڈی نے کہا کہ مذکورہ ماؤسٹ قائدین نے چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کی حالیہ دنوں کی اپیل جس میں انہوں نے نکسلائٹس کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی، سے متاثر ہوکر تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے سماجی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ خودسپرد ہونے والے پرساد راؤ کے سر پر 25 لاکھ اور بنڈی پرکاش کے سر پر 20 لاکھ روپئے کا انعام تھا، وہ رقم بالترتیب دونوں کو دے دی گئی۔ خودسپرد ہونے والے قائدین خرابی صحت اور مرکزی حکومت کی جانب سے چلائے جارہے آپریشن ’’کگار‘‘ سے بچنے کیلئے قومی دھارے میں شامل ہوئے ہیں۔ ب