سیاسی عمل کے آغاز اور جمہوریت کے احیاء کیلئے تمام گرفتار شدہ قائدین کی رہائی اولین شرط ، بات چیت کے بعد وفد کا بیان
سرینگر ۔ /6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی تنسیخ کے بعد وہاں ایک بڑی سیاسی پیشرفت کے طور پر نیشنل کانگریس کے 15 رکنی وفد نے اپنی پارٹی کے محروس قائدین ، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ سے ملاقات کی ۔ وفد نے ان دونوں قائدین سے علحدہ ملاقاتوں کے دوران مجالس مقامی کے ہونے والے انتخابات کے علاوہ ریاست کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ حکومت جموں و کشمیر نے وفد کو ان قائدین سے ملاقات کی اجازت دی تھی ۔ نیشنل کانفرنس کے جموں صوبائی سربراہ داویندر سنگھ رانا کی قیادت میں اس وفد نے ہری نواس پہونچکر سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ سے تقریباً 30 منٹ تک بات چیت کی ۔ اس ریاست کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دستور ی دفعہ 370 کو مرکز نے /5 اگست کو منسوخ کردیا تھا ۔ جس کے بعد عمر عبداللہ اور کئی قائدین کو محروس کردیا گیا تھا ۔ جہاں ان کی یہ کسی سے پہلی ملاقات تھی ۔ عمر عبداللہ جو حالیہ دنوں میں چہرہ پر داڑھی رکھے ہیں اپنی پارٹی کے قائدین کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے دیکھے گئے ۔ داویندر سنگھ رانا نے ملاقات کے بعد باہر نکلتے ہوئے وہاں منتظر صحیفہ نگاروں سے کہا کہ کسی بھی سیاسی عمل شروع کرنے کے لئے سب سے پہلے محروس قائدین کو رہا کیا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ حالیہ عرصہ کے دوران وقوع پذیر حالات اور واقعات بالخصوص عوام کو محروس کئے جانے پر شدید برہمی پائی جارہی ہے ۔ ایک پارٹی کی حیثیت سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ سیاسی عمل شروع کیا جائے ۔ جموں و کشمیر میں جمہوریت کے احیاء کے لئے ان تمام سیاسی محروسین کو رہا کرنا ضروری ہے جن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمات درج نہیں ہیں ۔ جموں و کشمیر کے عوام کے دل و دماغ کو جیتنا چاہئیے ۔رانا نے کہا کہ ایک ایسے پارٹی کو جو ایک وراثت ، تاریخ اور عظیم خدمات کا ایک ریکارڈ رکھتی ہے ۔ اس نظریہ پر متفق ہے کہ اس کو عوام کی فلاح و بہبود اور فرقہ وارانہ اخوت و ہم آہنگی کیلئے کام کرتی رہی ہے ۔ بلاک ڈیولپمنٹ کمیٹی کے ہونے والے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے حصہ لینے کے بارے میں ایک سوال پر رانا نے جواب دیا کہ ’ دیکھے مکمل تالہ بندی (تعطل و بند) ہے ۔ اگر سیاسی عمل شروع کرنا ہی ہے تو پھر ان تمام محروسین کو رہا کرنا ہوگا ۔ ‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ ہمیں خوشی ہے کہ دونوں (فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ) ٹھیک اور مکمل طورپر ہشاش بشاش ہیں ۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ وقوع پذیر حالات بالخصوص بڑے پیمانے پر عوام کی گرفتاریوں پر انہیں شدید غم و غصہ ہے ۔ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں بالخصوص نابالغ اور کمسن بچوں کی اندھادھند گرفتاریوں کی شکایت عام ہیں۔
محبوبہ مفتی سے آج پی ڈی پی وفدکی ملاقات
حراست کے بعد پہلی بار جموں وکشمیرحکومت کی طرف سے ملی اجازت
سری نگر/6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) : جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے پیرکوپیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے10 لیڈروں کا وفد ملے گا۔ گورنرکی طرف سے یہ حکم اتوارکوجاری کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اتوارکوفاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ سے پارٹی لیڈروں نے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ یہ لیڈران پانچ اگست کو راجیہ سبھا میں جموں وکشمیرسے دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے ہٹائے جانے کے پہلے سے ہی حراست میں ہیں۔ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی حراست میں ہیں۔ گزشتہ دنوں فاروق عبداللہ سے متعلق ایک سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے اطلاع دی تھی کہ فاروق عبداللہ کوعوامی تحفظ ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتارکیا گیا ہے۔اس سے قبل جموں وکشمیرانتظامیہ نے جمعرات کویہ اطلاع دی کہ کشمیرمیں نظربند کئے گئے سبھی سیاسی لیڈروں کے مناسب تجزیہ کے بعد انہیں مرحلہ وارطریقہ سے رہا کیا جائے گا۔ جموں میں لیڈروں کی رہائی کے بعد نظربند کشمیری لیڈروں کی رہائی کے متعلق سوال کرنے پرگورنرکے مشیرفاروق خان نے کہا کہ ‘اعتماد کریں، ہرایک شخص کے مناسب جائزہ اورتجزیہ کے بعد انہیں ایک ایک کرکے رہا کیا جائے گا’۔
