دو ماہ قبل دستیاب خاتون کی نذر آتش نعش کا معمہ حل

   

دو ملزمین گرفتار ، کاماریڈی میں ضلع ایس پی بی سرینواس کی پریس کانفرنس

کاماریڈی : ایس پی کاماریڈی مسٹر بی سرینواس ریڈی آج سداشیو نگر پولیس اسٹیشن میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 25 ؍ نومبر کے روز سداشیو نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک مسلم خاتون کا قتل کرتے ہوئے یہاں پر اسے نذرآتش کردیا گیا تھا ۔ جس پر پولیس نے اس کیس کو درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اسپیشل ٹیمس قائم کی تھی ۔ تحقیق کے دوران ایک بلیرو کار مرکل موضع میں بار بار گھومنے پر سی سی کیمرہ کے فوٹیج کی بنیاد پر بھکنور، ڈچپلی ٹول گیٹوں پر تنقیح کرنے پر پتہ چلا کہ یہ بلیرو حیدرآباد سے بھکنور کی طرف گئی تھی جس کے نمبر کی بنیاد پر حیدرآباد پہنچ کر مالک سے پوچھ تاچھ پر ڈرائیور کے مالک بتایا کہ 24؍ نومبر کے روز رات 10 بجے گاڑی ریاض خان کو کرایہ پر دی گئی تھی ،ڈرائیور سے پوچھ تاچھ کرنے پر ریاض خان کا پتہ لگاتے ہوئے رمضان خان نامی شخص سے بھی تفصیلات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ ریاض خان کا تعلق اُتر پردیش سے ہے اور رمضان خان کا تعلق بھی اتر پردیش سے ہے اور رمضان خان اپنی بیوی فاطمہ خاتون کے ہمراہ حیدرآباد میں مزدوری کرتے ہوئے رہ رہا تھا۔ رمضان خان کی بیوی فاطمہ خاتون پیسوں کیلئے اپنے شوہر کو ہراساں کررہی تھی جس پر بیوی کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے 24نومبر کی رات اپنی بیوی کو سر پر وار کرتے ہوئے ہلاک کردیا اور اپنے ساتھی ریاض خان ، نان بابو ، رضوان خان اور پوجن کے ہمراہ نعش کو بلیرو کے ذریعہ قومی شاہراہ 44 سداشیو نگر کے مرکل کے حدود میں پٹرول چھڑک کر نذرآتش کرنے کے بعد راہ فرار اختیار کرلی ۔ پولیس نے ان دونوں کو تحویل میں لیکر پوچھ تاچھ کرنے پر قتل کا انکشاف کیا جس پر ان دونوں کو گرفتار کرتے ہوئے ریمانڈ پر دے دیا ۔ ضلع ایس پی نے اس کیس کی نمایاں تحقیق پر سرکل انسپکٹر رامن اور سب انسپکٹر شنکر، ڈی ایس پی کی ستائش کی اور اس کیس کے بارے میں تحقیق کرنے پر مبارکباد پیش کی ۔