گزشتہ سے آگے
محمد مبشر الدین خرم
میڈیا کی جانب سے مخالف مسلم خبروں کی نشریات کے علاوہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والی حرکات پر واویلا کرنے سے کوئی مسائل حل نہیں ہوں گے ‘ مسلمانوں کا اپنا میڈیا اور ان کی اپنی دور اندیشی ہی ان کے سماج اور معاشرہ سے جڑے مسائل کو حل کرسکتی ہیں کیونکہ میڈیا خواہ کسی شکل میں ہوصرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا کام نہیں کر رہا ہے بلکہ تہذیبی اقدار کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے اور تہذیبی جب رفع ہونے لگتی ہے تو اخلاقیات کے ساتھ حیاء جاتی رہتی ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہونے لگتے ہیں۔ مسلمانوں کی تباہی کیلئے صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی اپنے حقیقی مسائل سے بے اعتنائی اور ان امور پر الجھنیں پیدا کرنا بھی ہے جن پر مباحث کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔گذشتہ مضمون میں ویب سیریز کے ذریعہ جس طر ح کے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں ان کا تذکرہ کیا گیا تھا اور اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ مسلمانوں کی عرصی میڈیا سے دوری نے انہیں کن حالات سے دوچار کررکھا ہے اور اب جو حالات ہیں اگر ان میں بھی وہ طرز کہن پر اڑے رہیں تو مستقبل میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ کیلئے انہیں تیار رہنا پڑے گا کیونکہ انہیں دنیا اس خطۂ ارض پر سب سے غیر اہم تصور کرنے لگ جائے گی جو کہ اب بھی تصور دیا جا رہا ہے اور ہر جگہ مسلمانوں کے قتل عام اور اس پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی خاموشی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ان کے قتل پر کوئی احتجاج نہیں ہوگا بلکہ جو قتل ہورہے ہیں وہ آہ و فغاں کرتے رہ جائیں گے اور قاتل اپنا کام تمام کرتا چلا جائے گا۔
دنیا میں ایک یہ نظریہ بھی ہے کہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی ’’زمین پر بوجھ‘‘ ہے اور اس آبادی کو ضائع کردینے میں ہی زمین کی بھلائی ہے اور اس نظریہ کو مغربی دنیا میں ایرک پیانکا کے نظریہ سے بھی جانا جاتا ہے یہاں اس نظریہ کا تذکرہ کرنا اس لئے ضروری ہے کہ دنیا میں ہونے والے واقعات اور فروغ حاصل کرنے والے نظریات سے ہم کس قدر آشنا ہیں اور ان کے تدارک کیلئے ہمارا کیا لائحہ عمل ہے! ہندستان میں مسلمانوں کے جو حالات ہیں ان حالات کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہندستانی مسلمان مذہبی رہنماؤں کی بات پر یقین رکھنے والا طبقہ تصور کیا جاتاتھا اور حکومتیں بھی اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اکثر و بیشتر مذہبی قائدین کی خدمات حاصل کرتی رہتی ہیں اور معصوم مسلمانوں کو بہلانے اور پھسلانے کیلئے ان کا ہر دور میں استعمال ہوتا رہا ہے اور دنیا دار مسند نشینوں نے ان حالات سے بھر پور فائدہ اٹھایا جبکہ دین دار طبقہ علماء جو کہ للہیت کے ساتھ رہبری کرتے رہے انہوں نے میڈیا سے دوری میں اپنی عافیت سمجھی کیونکہ میڈیا کے شوق سے للہیت کے خاتمہ کا انہیں ہمیشہ خوف رہا جس کا فائدہ ان لوگوں نے خوب اٹھایا جو ان کی خدا ترسی اور للہیت کو عوام سے دور رکھنے میں اپنی عافیت تصور کرتے تھے۔ہندستان کے اکابر علماء کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے استعمال میں عدم دلچسپی اور خشیت کا شکار رہنے کے سبب وہ لوگ ذرائع ابلاغ اداروں اور نمائندوں سے قریب ہوتے چلے گئے جہاں انہوں نے اقوام عالم کے سامنے جو مسلمانوں کی ترجمانی کی وہ مسلمانوں کے لئے نقصاندہ رہی لیکن اکابر علماء میں21ویں صدی کے ساتھ بتدریج تبدیلی رونما ہونے لگی اور جو لوگ تصویر کشی سے گریز کرتے تھے وہ ویڈیو پر اپنے پیام بنانے لگے اور ان کی تقاریر وقت کی مناسبت سے ریکارڈ کی جانے لگی ۔
ہندستان میں سال 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندستانی مسلمانوں کا تناسب 14.23 ہے جبکہ جین مذہب کا تناسب 0.37 ہے اسی طرح ہندو مذہب کے ماننے والوں کا فیصد 79.80 ہے جبکہ عیسائی مذہب کے ماننے والوں کا تناسب 2.30ہے۔بدھ مت کے ماننے والوں کا تناسب 0.70 تھا اور سکھ مت کے ماننے والوں کی تناسب 1.72 تھا۔ ہندستان میں مذہب کے اعتبار سے آبادی کے تناسب کا جائزہ لینے کے بعد اب اگر ہم ہندستان میں چلائے جانے والے مذہبی چیانلس کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ہمارا کوئی مذہبی چیانل ہندستان میں موجود نہیں ہے ۔ عیسائی آبادی جو کہ 2.30 فیصد ہے اس کے 4ٹیلی ویژن چیانلس تبلیغ کا کام ہندستان میں کر رہے ہیں‘جن میں اینجل ٹی وی ‘ میراکل نیٹ‘ شالوم ٹی وی کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح ہندستان میں 0.37 فیصد آبادی رکھنے والی جین برادری کے 3چیانل موجود ہیں جن پر وہ اخلاقیات اور دیگر درس دیتے ہیں ان میں آستھا ٹی وی‘ جنوانی ٹیلی ویژن اور اری ہنت ٹی وی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندو مذہب کے نظریات و تعلیمات کے فروغ کیلئے ہندستان میں کئی چیانلس موجودہیں جن میں بھکتی ٹی وی‘ سادھنا ٹی وی‘ دیوی ٹی وی ‘ ست سنگ ٹی وی اور دیگر موجود ہیںجبکہ مسلمانوں کے مذہبی چیانلس کی بات کی جائے تو سیٹلائٹ چیانل جو مذہبی ہے کوئی ہندستان میں نہیں ہے اور پیس ٹی وی کے علاوہ مسلمانوں کے ہندستانی مذہبی چیانل کے آغاز کی کوئی کوشش بھی نہیں کی گئی جبکہ ہندستان میں مسلمانوں کی آبادی مردم شماری کے اعتبار سے بھی قبول کی جائے تو ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہے اور یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ مسلمان آفاقی مذہب کے ماننے والے ہیں۔
عصر حاضر میں مسلمانوں کو نہ صرف ذرائع ابلاغ بلکہ خالص مذہبی ٹیلی ویژن چیانل کی ضرورت ہے لیکن مسلمانوں کو ہی ضرورت ہے کیونکہ سنی‘ بریلوی‘ اہل حدیث ‘ شیعہ ‘ دیوبندی چیانلس دوسرے ممالک سے ہندستان میں رسائی حاصل کر رہے ہیں ۔ ہندستان میں موجود دیگر اقوام جنہیں مسلمانوں کے ہر طبقہ ومسلک کی جانب سے ببانگ دہل باطل قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ باطل طبقات اس قدر طاقتور کس طرح ہونے لگے ہیں کہ ان کا مقابلہ کرنے کی جرأت حق کے پرستاروں سے جاتی رہی !ان کے طاقتور ہونے کی بنیادی وجہ ان کا اپنا میڈیا ہے جو ان کے لئے کام کرتا ہے اور ان کے غلط کو بھی صحیح کے طور پر پیش کرتا رہتا ہے اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے سچ کو بھی ہم دلائل کے ساتھ پیش کرنے سے محروم ہیں کیونکہ ہمارا کوئی مستحکم میڈیا نہیں ہے۔ اشاعت دین کے لئے اب جبکہ عصری آلات کے استعمال کی گنجائش فراہم کی جا رہی ہے اور اسے ’’غیراسلامی‘‘ نہیں کہا جارہاہے تو ایسی صورت میں اب ضرورت ہے کہ مسلمان اخلاقیات پر مبنی واقعات کی فلم بندی کرتے ہوئے انہیں دنیا کے سامنے پیش کریں ۔ اگر اب بھی اس عمل کے متعلق غفلت سے کام لیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں مسلمانوں کی نسلیں چھوٹا بھیم‘ بال گنیش یا ہیری پوٹر ‘ ہری پتر اور بین 10کی بہادری قصہ کہانیاں دیکھ کر بڑی ہوں گی یا پھر وہ PUBG کے شکار رہیں گے تو اس نسل سے قوم کی تعمیر کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے!عصری ذرائع ابلاغ کی سہولت اور چیالنجس کو قبول کرتے ہوئے شہر حیدرآباد سے ایک ادارہ کی جانب سے اخلاقیات پر مبنی کچھ کہانیاں بنائی گئی لیکن وہ بھی بہت چھوٹے پیمانے پر کام ہوا اور اس کی پذیرائی نہیں کی گئی۔
ہندستان میں مسلمانوں کو اپنے اسلاف کی تاریخ ‘ تہذیب و تمدن کی برقراری ‘ مذہبی عقیدہ کو مسخ کرنے کی سازش کا مقابلہ اور دین متین کی حقانیت کو پیش کرنے لئے لازمی ہے کہ وہ ان اہم واقعات کی فلم بندی پر توجہ مرکوز کریں جن سے نئی نسل کو واقف کروانا لازمی ہے کیونکہ نئی نسل تقاریر سننے اور کتابیں پڑھنے کی سمت مائل نہیں ہے اور نہ ہی موجودہ دور میں ان کیلئے کوئی ایسا مشغلہ موجود ہے جو انہیں اپنے اسلاف کی تاریخ اور ان کی بہادری کے واقعات سے واقف کرواسکے۔ مسلمان اگر دور حاضر کے چیالنجس سے نمٹنے اور ان کے خلاف جاری پروپگنڈہ کے مؤثر جواب دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو صرف ہندستانی مسلمانوں کی قربانیوں کی جو تاریخ ہے اس کے ذریعہ ہی موجودہ حالات میں اپنا مؤثر دفاع کیاجاسکتا ہے۔ مغلوں کی حکمرانی ‘ آصف جاہوں کی تاریخ ‘ ٹیپو سلطان کی بہادری ‘ جنگ آزادی میں علماء کی قربانی ‘ مسلم مجاہدین آزادی کی خدمات کے علاوہ کئی امور ایسے ہیں جن پر نہ صرف فلم بنائی جاسکتی ہے بلکہ ان پر کئی سیریل بنائے جا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے مذہبی کردار اور اسلام کے حب الوطنی کے متعلق احکام کا بھی ان سیریل اور فلموں میں احاطہ کیا جاسکتا ہے اور آج جب کہ انٹرنیٹ پر آزاد فورم موجود ہیں تو مسلمان کیوں نہیں ان فورموں کا استعمال کرتے ہوئے مولانا محمد علی جوہر ‘ مولاناشوکت علی ‘ مولانا آزاد اور دیگر شخصیات کے کردار اور کارناموں کو کیوں پیش نہیں کر سکتے!ہندستان میں رہنے والی دوسری بڑی اکثریت کو اب اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا کیا وہ اب بھی اپنی تاریخ کو ضبط تحریر لانے کے حق میں ہیں یا پھر اپنی تاریخ کو عصری طریقہ سے محفوظ کرنے کیلئے کمر کسنے تیار ہیں کیونکہ اپنی تاریخ کو اپنی نسلوں تک پہنچانا ہماری ہی ذمہ داری ہے اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو آج جو کہا جا رہاہے کہ ’’تاریخ کو ہندستان کے نقطہ نظر سے دوبارہ تحریر کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔
مسخ شدہ تاریخ اگر بہ آسانی دستیاب ہونے لگ جائے تو مستقبل میں اسے ہی درست مان لیا جائے گا کیونکہ مطالعہ کے بجائے تاریخ پر مشتمل فلموں کے حوالہ جات دیئے جانے لگے ہیں، اس کا اندازہ ان فلموں سے کیا جاسکتا ہے جن میں جامعات میں موجود تاریخی حقائق کے حوالوں کے ساتھ واقعات کو فلم بند کیا گیا ہے اور اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ممکن ہے کہ ہندستان کی تاریخ میں مسلمانوں کا تذکرہ ظالم ‘ جابر‘ جاہل اور درانداز قوم کے علاوہ ملک سے محبت نہ کرنے والی قوم کی حیثیت سے کیاجاتا رہے گا جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اس ملک کو نہ صرف تہذیب و تمدن بخشا ہے بلکہ اس سرزمین کو ایسی تاریخی عمارتوں سے مزین کیا کہ یہاں جو بھی سیاح آتے ہیں ان فن تعمیر کے شاہکار نمونو ںکو دیکھ کر عش عش کرتے رہ جاتے ہیں۔ہندستانی مغلائی کھانوں کی تعریف تو دنیا بھر میں ہوتی ہے لیکن مغلوں کی تاریخ سے دنیا آشنا نہیں ہورہی ہے۔آصف جاہوں کے دسترخوان کو دنیا نے قبول کیا ہے اور اس کی ترکیبیں دریافت کی جا رہی ہیں لیکن آصف جاہوں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رعایا پروری سے لا علمی بڑھتی جا رہی ہے۔بھگت سنگھ ‘ سکھ دیو اور راج گرو کی پھانسی کا تو تذکرہ ہوتا رہتا ہے لیکن مولانا حسرت موہانی ‘ مولانا حسین احمد مدنی ‘مولانا فضل حق خیرآبادی ‘بیگم حضرت محل‘بطخ میاں انصاری‘ اشفاق اللہ خان اور ان جیسے مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو فراموش کیا جارہا ہے۔٭