دکانات پر نام لکھوانے کا حکم ، مایا وتی کی یوگی پر تنقید

   

لکھنو ۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے دکانوں پر نام لکھنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اتر پردیش حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے کنوریاترا کے دوران بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا، اس کا کیا فائدہ ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ مایاوتی نے کہا کہ اس وقت حکومت کا مقصد عوام کی توجہ ہٹانا تھا اورآج بھی وہی ہے۔ خوراک میں ملاوٹ کے حوالے سے ریاست میں پہلے سے ہی سخت قانون موجود ہے لیکن حکومت کی لاپرواہی اور ملی بھگت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ریاست میں ملاوٹ کا بازار بغیرکسی خوف کے چل رہا ہے۔ اب حکومت کا یہ فیصلہ کہ لوگوں کو دکانوں پر نام لکھوانا پڑے گا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تروپتی مندر تنازعہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرساد لڈو میں چربی کی ملاوٹ کی خبروں نے ملک بھرکے لوگوں کو دکھی کردیا ہے۔ لیکن لوگ اس پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔ مذہب کی سیاست کے بعد اب لوگوں کے ایمان کے ساتھ اس طرح کی گھناؤنی گندگی کا اصل مجرم کون ہے؟ معلوم کیا جائے۔