کالج فار ویمن کوٹھی میں دو روزہ بین الاقوامی دکنی کانفرنس کا انعقاد
حیدرآباد ۔ یکم ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : ڈاکٹر محمد نذیر احمد صدر شعبہ اردو کے بموجب قومی کونسل کے اشتراک سے عثمانیہ یونیورسٹی کالج فار ویمن کوٹھی کے زیر اہتمام 26 اور 27 فروری کو منعقدہ بین الاقوامی دکنی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقع پر ہادی دکن لائبریری اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی زندگی کے آخری ایام میں ہاتھ سے لکھے گئے کلام کی نمائش کی گئی ۔ استقبالیہ کلمات میں کانفرنس ڈائرکٹر نے واضح کیا کہ اس طرح کی کانفرنسوں کے انعقاد کا مقصد صرف اور صرف طلبہ کی عمدہ تربیت کرنا ہے ممکن ہے ان میں سے کوئی بابائے اردو یا بابائے دکنیات ، کے نقش قدم پر چلتا ہے تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ جناب تقی عابدی نے کلیدی خطبے میں حضور نظام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس پر آشوب دور میں نواب میر عثمان علی خاں کی 53 ویں برسی کے موقع پر دکنی کانفرنس اور خصوصی لکچر کا اہتمام وقت کی اہم ضرورت تھی ، دکنی اثاثے کا تحفظ جامعہ عثمانیہ ہی کا کارنامہ ہے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ اس مختصر افتتاحی اجلاس میں نواب میر عثمان علی خاں کی ذات کو سمیٹنا ناممکن ہے ۔ علمی و ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرنا نہ صرف اُن کی ذمہ داری ہے بلکہ اولین فرض بھی ہے ۔ مہمان خصوصی اسکالر تحفظ برائے مخطوطات جناب سید عبدالمہیمن قادری لاابالی نے کہا کہ اسلامی ، تاریخی ، علمی و ادبی مخطوطات و ملفوظات کا تحفظ ان کا خاندانی ورثہ ہے جس کو وہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں ۔ پروفیسر مجید بیدار نے بتایا کہ میر عثمان علی خاں ایک رعایا پرور حکمران تھے جنہوں نے نہ صرف حیدرآباد کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیے بلکہ ہندوستان بھر میں جب کبھی ضرورت آن پڑی بے دریغ مال و زر خرچ کیا وہ ہند و مسلمان اتحاد کے علمبردار رہے قومی یکجہتی کو فروغ دیا ۔ محترمہ قمر جمالی نے کہا کہ انہوں نے خاص طور پر اس کانفرنس میں شرکت اس لیے کی کہ وہ نئی نسل میں خود کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں ۔ پرنسپل اے روجہ رانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو تمام ہندوستانیوں کی زبان ہے ۔ نواب میر عثمان علی خاں کی فن تعمیرات اور ان کے علمی و ادبی کارناموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی شام منعقدہ مشاعرے میں ڈاکٹر تقی عابدی ، پروفیسر مولا بخش اسیر ، ڈاکٹر آغا سروش ، ڈاکٹر نذیر عابدی ، جناب سردار اثر ، جناب مجتبیٰ فہیم ، تنوید احمد ، ڈاکٹر روف خیر ، سید تمجید حیدر ، ریاست علی اسرار نے کلام سنایا ۔ کنوینر پروگرام ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ اور معاون کنوینر جناب مختار احمد فردین نے شکریہ ادا کیا ۔۔
