دکن بٹن فیکٹری تغافل کا شکار

   

l اسے 1916 میں نظام ششم میر محبوب علی خان کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔
l اس فیکٹری میں سونے، چاندی اور دیگر میٹلس سے بنائے جانے والے بٹنس کا
استعمال نظامس اور ملک کے دیگر شاہی خاندانوں کے افراد، فوجی اور پولیس
عہدیدار کیا کرتے تھے۔
l حالانکہ اس فیکٹری کے ایک حصہ کو سڑک کشادگی میں منہدم کردیا گیا تاہم اصل
مقام جہاں مشنیری لگائی گئی تھی اب بھی ویسے ہی حالت میں ہے۔

حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اس کی تاریخی یادگار عمارتوں جیسے چارمینار اور قلعہ گولکنڈہ کیلئے بہت مشہور ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں کئی تاریخی مساجد، منادر، چرچس اور بازار ہیں۔ حیدرآباد کی چوڑیاں اور ذائقہ بریانی ہر ایک کی پسند ہوتی ہیں۔ ان تمام کے علاوہ دکن، سونے اور چاندی کے بٹن کیلئے بھی مشہور ہے جن کا استعمال نظامس ملک کے دیگر شاہی خاندانوں کے افراد، فوج کے علاوہ پولیس عہدیدار کرتے تھے۔ پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں شبلی گنج، حسینی علم میں دکن بٹن فیکٹری ہے جو سونے اور چاندی کے بٹن تیار کرنے کیلئے ملک بھر میں مشہور تھی۔ اسے 1916 میں نظام ششم میر محبوب علی خان کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔ اس فیکٹری میں تیار کئے جانے والے سونے اور چاندی کے منفرد بٹن دکن اور دیگر ریاستوں کے شاہی خاندان کے افراد، امراء ان کے شیروانیوں، کوٹ اور دیگر لباس میں سونے اور چاندی کے دھاگے کے ساتھ لگا کر استعمال کیا کرتے تھے۔ انورادھا ریڈی کنوینر، انٹیک نے کہاکہ ’’اس کے لئے بٹن مشینری کو انگلینڈ سے لاکر یہاں نصب کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس فیکٹری میں اب بٹن کی تیاری نہیں ہورہی ہے، تاہم یہ صدی قدیم فیکٹری مشینری اب بھی صحیح سالم اور ویسے ہی حالت میں ہے اور اسے ان لوگوں کی نسل کے افراد نے اصلی حالت میں رکھا ہے جو یہ فیکٹری چلایا کرتے تھے۔ مورخین کے مطابق نواب تہنیت علی خان (نظام پنجم) کے دورحکومت کے دوران بالخصوص نواب میر محبوب علی خان (نظام ششم) اور میر عثمان علی خان (نظام ہفتم) کے دور میں بڑے پیمانہ پر بٹن فیکٹریز قائم کئے گئے تھے۔ یہ مخصوص بٹن ہر محکمہ کے اسٹاف کیلئے استعمال کئے جاتے تھے۔ انہیں اعلیٰ عہدیداروں کے عہدوں کے مطابق بنایا جاتا تھا اور انہیں سونے، چاندی اور دیگر میٹلس سے تیار کیا جاتا تھا۔ یہ فیکٹری اس کی خوبصورتی کے کام کیلئے مشہور تھی۔ اس میں مختلف موقعوں کیلئے متعدد ڈیزائنس اور شکلیں ہوتی تھیں۔ یہ بٹن گول، بیضوی، مربع شکلوں میں بنائے جاتے تھے۔ زیادہ تر شاہی افراد گول شکل کے بٹنس کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ بٹن منفرد ہوتے تھے اور پورے ملک میں مشہور ہوا کرتے تھے۔ انورادھا ریڈی نے مزید کہا کہ ’’اس فیکٹری میں ماہر دستکاروں کے ساتھ چند کاریگر یہ بٹنس بنایا کرتے تھے۔ بعد میں نظام دورحکومت کے خاتمہ کے بعد یہ فیکٹری شاہی خاندانوں کو بٹن فراہم کرتی رہی‘‘۔ اس فیکٹری کو اربنائزیشن کے ساتھ دہوں قبل بند کردیا گیا۔ اس فیکٹری کے ایک حصہ کو سڑک کشادگی کے کام میں منہدم کردیا گیا۔ اب بھی اصلی جگہ جہاں مشینری لگائی گئی تھی ویسے ہی ہے حسینی علم روڈ سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ پرانے شہر کے ایک بزرگ شخص محمد معظم فاروقی نے کہا کہ ’’میڈ ان دکن‘‘ بٹنس کو اب بھی شہر کے شاہی خاندان کے افراد استعمال کرتے ہیں‘‘ ان دنوں تمام شاہی افراد ان بٹنس کا استعمال کیا کرتے تھے۔ ان کے پوترے اور پڑپوترے ان کی شیروانیوں اور کوٹس میں ان کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بٹن قیمتی ہوتے ہیں کیونکہ یہ منفرد ہوتے ہیں۔