دھرانی پورٹل میں خامیوں کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا

,

   

Ferty9 Clinic

محض چار خدمات کی فراہمی، پورٹل کے بارے میں حکومت کے دعوے غلط ثابت
حیدرآباد: حکومت نے زرعی اور غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے معاملات کے لئے 2 نومبر کو دھرانی پورٹل متعارف کیا تھا لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود پورٹل میں کئی خامیاں موجود ہیں جس کے نتیجہ میں کئی خدمات مفلوج ہوچکی ہیں۔ رجسٹریشن کے لئے رجوع ہونے والے افراد کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھرانی پورٹل کو عوام کے لئے آسان بنانے کئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ زرعی اراضیات اور غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کا عمل شروع ہوچکا ہے لیکن پورٹل میں تکنیکی خامیوں کے نتیجہ میں کئی خدمات بحال نہیں ہوسکیں۔ پورٹل کے آغاز کا مقصد ایک پلیٹ فارم سے عوام کو اراضیات سے متعلق تمام امور کی تکمیل کرنا ہے ۔ رجسٹریشن آفس پہنچنے والے بیشتر افراد کو مایوسی کا سامنا ہے کیونکہ عہدیدار کسی نہ کسی تکنیکی خرابی کا بہانہ بناکر رجسٹریشن سے انکار کر رہے ہیں۔ حکومت نے پورٹل کے ذریعہ جتنی خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، اس قدر خدمات کا آغاز نہیں ہوسکا۔ انفرادی مالکین کے علاوہ رئیل اسٹیٹ شعبہ سے وابستہ افراد نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ دھرانی پورٹل کی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دی جائے ۔ پورٹل کے ذریعہ اراضی سے متعلق 20 خدمات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن صرف 4 خدمات کا آغاز ہوا ہے جن میں اراضی کی فروخت ، رہن ، وراثت سے متعلق امور شامل ہیں۔ حکومت نے دھرانی سے معاملات کی یکسوئی پر پاس بک کی قیمت 300 روپئے مقرر کی ہے ۔ نئے رجسٹریشن کے طریقہ کار سے بینکوں کو بھی اختلاف ہے۔ رجسٹریشن کے بعد جاری کی جانے والی دستاویزات کو بینکوں کی جانب سے قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ دھرانی پورٹل پر ریونیو ، فاریسٹ ، وقف ، انڈومنٹ ، مجالس مقامی ، سروے سٹلمنٹ جیسے اداروں کی تفصیلات کو شامل کیا گیا ہے ۔ حکومت نے پورٹل میں پائی جانے والی خامیوں کو جلد سے جلد دور کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ رجسٹریشن سے آمدنی میں اضافہ کیلئے حکومت نے ایل آر ایس اسکیم سے جزوی طور پر دستبرداری اختیار کی۔ باوجود اس کے پورٹل کی خامیوں نے رجسٹریشن کے عمل کو متاثر کیا ہے ۔ نئے احکامات کے تحت قدیم جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن کیلئے ایل آر ایس کا لزوم نہیں ہوگا جبکہ پہلی مرتبہ فروخت ہونے والے پلاٹس کیلئے ایل آر ایس کی منظوری لازمی رہے گی جس کے نتیجہ میں نئے وینچرس کے آغاز میں رکاوٹ ہوسکتی ہے۔