غلطیوں میں سدھار کی کوششوں پر بھاری رشوت کی طلبی ۔ بدعنوانیاں و بے قاعدگیاں عروج پر
حیدرآباد۔12۔ستمبر(سیاست نیوز) دھرانی پورٹل میں دھاندلیوں کے متعلق شکایت کیلئے کوئی فورم نہ ہونے کے سبب زرعی اراضیات کے مالکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کہا جار ہا ہے کہ حکومت کی جانب سے دھرانی سے متعلق شکایات کو دور کرنے کے اختیارات محکمہ مال کے عہدیداروں کو دینے سے میں بھاری رشوت ‘ بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں جنہیں روکنے کی کوشش کرنے والوں کے مسائل کو پیچیدہ بنایا جارہاہے۔ حکومت سے دھرانی پورٹل روشناس کروائے جانے کے بعد زرخرید اراضیات کو بھی دھرانی میں سرکاری اراضیات کے طور پر درج کردیئے جانے کے سبب جو لوگ اپنی جائیدادوں کی فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مسائل کا سامنا ہے اور جب وہ متعلقہ عہدیداروں سے ان خامیوں کو دور کرنے رجوع ہورہے ہیں تو ان سے بھاری رقومات طلب کی جانے لگی ہیں ۔ ان بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی درخواستوں میں پیچیدگیاں پیدا کرکے انہیں زیر التواء رکھا جانے لگا ہے ۔زرعی اراضیات کی خرید و فروخت کرنے والوں کا کہناہے کہ شہر کے اطراف و نواحی علاقوں کی جائیدادوں بالخصوص قیمتی جائیدادوں کو دھرانی پورٹل میں سرکاری اراضیات یا فاضل اراضی کے طور پر درج کیا گیا ہے جبکہ ان جائیدادوں و اراضیات کے مکمل دستاویزات و قبضہ بھی مالکین کے پاس ہے اس کے باوجود وہ اپنی جائیداد کو فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔جائیداد مالکین کا کہناہے کہ تحصیلدار سطح کے عہدیدار یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ دھرانی پورٹل میں خامیوں سے کئی جائیدادوں کا اندراج غلط ہوا ہے اس کے باوجود اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ان غلطیوں کو سدھارنے ملنے والی درخواستوں پر توجہ کی بجائے انہیں زیر التواء رکھنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ زرعی جائیدادوں و اراضیات کے مالکین جو اپنی جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں محض دھرانی پورٹل میں والی غلطیوں کی وجہ سے ان کی اراضیات و جائیدادوں کو نزاعی قرار دیا جانے لگا ہے اور حکومت کی ان غلطیوں کے نتیجہ میں ان اراضیات کی قیمتیں گھٹ رہی ہیں جن میں کوئی نزاعات نہیں ہیں۔ پورٹل میں خامیوں اور ان غلط اندراجات کو درست کرنے درخواست داخل کرنے والوں سے محکمہ مال کے عہدیدار لاکھوں روپئے وصول کر رہے ہیں اوران کی اس حرکت کے خلاف شکایت کی سماعت کیلئے کوئی آمادہ نہیں ہے بلکہ یہ کہا جار ہاہے کہ دھرانی پورٹل کے غلط اندراجات کو درست کرنے والوں کی رقومات کی ہر سطح پر تقسیم عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس میں سب برابر کے حصہ دار ہیں۔