دھرانی پورٹل پر ملکیت کی تفصیلات کے بغیر ایک لاکھ ایکرس زرعی اراضیات اپ لوڈ کی گئیں

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 2 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا ایک لاکھ ایکڑ زرعی اراضیات کو ان کے مالکین کی تفصیلات کے بغیر دھرانی پورٹل پر اپ لوڈ کیا گیا ہے ۔ ان اراضیات کے مالکین کے ناموں کو ’ نامعلوم ‘ بتایا گیا ہے ۔ تاہم عہدیداروں نے ان کے سروے نمبرس کی اساس پر پلاٹس کے کھاتہ نمبرس کی فہرست بنائی ہے ۔ نا مکمل اور ادھورے ڈیٹا سے متعلق کئی شکایتوں پر محکمہ ریونیو کے عہدیداروں نے کہا کہ انہوں نے نقائص کو دور کرنے اور ریکارڈ کو درست کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کررہے ہیں ۔ سینئیر عہدیداروں نے کہا کہ ڈیٹا اپ لوڈ کرتے وقت غلطی ہوئی ہوگی ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ سابق متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں محکمہ مال کے عہدیداروں نے سرکاری پورٹلس بناکر اراضی کی تفصیلات کے ڈیجیٹائزیشن کے اقدامات کئے تھے ۔ ریکارڈس کی بنیاد پر ریونیو اسٹاف نے دھرانی پورٹل کا آغاز کرنے سے قبل گھر گھر جاکر تفصیلات حاصل کئے اور اسی ڈیٹا کو اپ لوڈ کیا گیا ۔ ہم محسوس کرتے ہیں اس میں خامیاں ہیں اور ہم سینئیر عہدیداروں سے صلاح و مشورہ کرتے ہوئے انہیں دور کریں گے ۔ اس میں خامیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محبوب نگر میں ایک کسان 50 گنٹے اراضی کا مالک ہے لیکن دھرانی پورٹل کے ڈیٹا کے مطابق اس کی اراضی 50 ایکڑس ہے ۔ ایک اور کیس میں ایک مخصوص اراضی کے سروے نمبر کے ’نامعلوم ‘ مالکین تھے ۔ ان غلطیوں کی زیراکس کاپیز کے ساتھ اس طرح کی اراضیات کے مالکین نے ان کے متعلقہ تحصیلدار آفسیس پہنچ گئے جہاں ان کی قطاریں ہوگئیں ۔ منڈل ریونیو آفیسرس نے دعویٰ کیا کہ یہ مسئلہ اضلاع میڑچل ، ملکاجگیری ، حیدرآباد اور رنگاریڈی کے علاوہ دیگر اضلاع میں پایا جاتا ہے ۔۔