دھرانی پورٹل کے ذریعہ تلنگانہ عوام کی دولت لوٹنے ریونت ریڈی کا الزام

   

خانگی کمپنی کے ہاتھ میں سرکاری دستاویزات، آوٹر رنگ روڈ اسکام کی جانچ ضروری

حیدرآباد۔/14 جون، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر کے سی آر کو اسمبلی کے درخت سے پھانسی دی جائے تب بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کے کسانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی جس کے نتیجہ میں کسان پریشان ہیں۔ اگر کے سی آر اور کے ٹی آر کو درخت سے باندھ کر سنگسار کیا جائے تب بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 75 برسوں میں کوئی سیاسی پارٹی یا سیاسی لیڈر نے کے سی آر کی طرح لوٹ مار نہیں مچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے ٹی آر دھرانی کے نام پر تلنگانہ عوام کی دولت کو سائبر مجرمین کی طرح لوٹ رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ دھرانی پورٹل تلنگانہ عوام کی موت اور زندگی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹل کے درپردہ بڑا اسکام ہے اور کے سی آر اور ان کے خاندان کی لوٹ کی کوئی نگرانی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھرانی لوٹ مار کی جانچ کے دوران کئی سنسنی خیز انکشافات ہوئے۔ ریوینیو ریکارڈ کو خانگی کمپنی کے حوالے کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کمپنی جو خود دیوالیہ کا شکار ہے اسے دھرانی پورٹل چلانے کی ذمہ داری دی گئی۔ سابق میں مذکورہ کمپنی نے 90 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے بینکوں کو دھوکہ دیا تھا۔ ایسے ادارہ کو دھرانی پورٹل کی ذمہ داری دینا درپردہ اسکام کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی میں ریکارڈس کو تبدیل کرتے ہوئے کسانوں کو اراضی کے مالکانہ حقوق سے محروم کردیا گیا۔ سی اے جی رپورٹ میں دھرانی پورٹل کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ آدھار اور پیان کی تفصیلات دھرانی کے نام پر وصول کرتے ہوئے دنیا بھر میں پہنچائی جارہی ہیں جو ڈیٹا کو مخفی رکھنے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دھرانی پر
سی اے جی رپورٹ حاصل کرتے ہوئے کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آوٹر رنگ روڈ معاملہ میں پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق کو چاہیئے تھا کہ انہیں رجسٹرڈ پوسٹ یا پھر کسی فرد کے ذریعہ لیگل نوٹس روانہ کرتے لیکن اروند کمار نے لیگل نوٹس میڈیا کے حوالے کردی۔ وہ برسراقتدار پارٹی کے اشارہ پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آوٹر رنگ روڈ لیز معاملہ میں بے قاعدگیوں کے الزامات پر وہ قانونی رخ اختیار کریں گے۔ر