مہیش کمار گوڑ کا الزام، ہائی کمان کی منظوری سے بی آر ایس ارکان اسمبلی کی شمولیت
حیدرآباد۔/23 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے دھرانی کے نام پر بڑے پیمانے پر اراضیات کو ہڑپنے کا کام کیا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ دھرانی پورٹل کے آغاز کے بعد سے کسانوں کیلئے یہ وبال بن چکا ہے۔ پورٹل میں اراضیات پر مالکین کے نام تبدیل کردیئے گئے اور سیاسی دباؤ کے تحت اراضیات منتقل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کانگریس ہائی کمان کا ہے۔ رکن کونسل جیون ریڈی کو اس فیصلہ سے کافی نقصان ہوا ہے اور کانگریس پارٹی ان کا ہر اعتبار سے تحفظ کرے گی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے نام پر بی آر ایس دور حکومت میں کئی بے قاعدگیاں کی گئی ہیں۔ گاؤں اور علاقوں کے ناموں کے بغیر اراضیات کو منتقل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کی سرگرمیاں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے اشارہ پر چلتی رہی ہیں۔ کانگریس حکومت نے دھرانی پورٹل کو مرکزی ادارہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ تلنگانہ میں سیاسی قتل کے واقعات کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جگتیال میں کانگریس قائد رنگاریڈی کا قتل افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیون ریڈی نے اس واقعہ کے بارے میں جو بھی بیان دیا ہے وہ ان کی شخصی رائے ہے۔ پارٹی ہائی کمان کے فیصلہ کے مطابق ارکان اسمبلی کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر پارٹیوں سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ تلنگانہ حکومت سیاسی قتل کے واقعات کو سختی سے نمٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کو قتل کے واقعات کیلئے اُکسانے سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہر معاملہ میں سیاسی مقصد براری کی کوشش کی جارہی ہے۔ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ پراجکٹ رپورٹ کیلئے 18 ماہ کی مہلت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بازآبادکاری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بی جے پی پراجکٹ کے بارے میں عوام کو الجھن کا شکار بنارہی ہے۔1