دھرانی کو خلیج بنگال میں پھینک دیا گیا، شفاف اراضی قانون حکومت کا مقصد، آج مباحث اور منظوری
حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بی آر ایس دور حکومت کے ’دھرانی‘ پورٹل کی جگہ ’بھوبھارتی‘ متعارف کیا ہے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے نئے اراضی قانون ’ بھو بھارتی‘ کا بل پیش کیا۔ تلنگانہ بھو بھارتی ( ریکارڈ آف رائیٹس اِن لینڈ ) بل 2024 پیش کرتے ہوئے وزیر مال سرینواس ریڈی نے اعلان کیا کہ عوام سے کئے گئے وعدہ کے مطابق کانگریس حکومت نے دھرانی پورٹل کو خلیج بنگال میں پھینک دیا ہے۔ وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے اسپیکر کی منظوری سے بل کی پیشکشی اور مباحث کا اعلان کیا جس پر اپوزیشن ارکان نے اعتراض جتایا۔ بی آر ایس کے ہریش راؤ، بی جے پی کے مہیشور ریڈی، مجلس کے اکبر اویسی اور سی پی آئی کے سامبا سیوا راؤ نے اسپیکر سے اپیل کی کہ اپوزیشن کو بل کے مطالعہ کیلئے وقت دیا جائے اور ترمیمات پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اپوزیشن کے اصرار پر اسپیکر نے ترمیمات پیش کرنے کیلئے مہلت دی اور بل پر مباحث کل19 ڈسمبر تک ملتوی کردیئے تاکہ اپوزیشن بل کے مطالعہ کے بعد تجاویز پیش کرے۔ اسپیکر نے وزیر مال کو صرف بل کے اغراض و مقاصد پیش کرنے کی اجازت دی۔ وزیر مال سرینواس ریڈی نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے نام پر بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں کی گئیں اور لاکھوں افراد کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اراضی قانون تیار کرنے کے مقصد سے دھرانی کی جگہ بھوبھارتی متعارف کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے نتیجہ میں گذشتہ چار ماہ کے دوران رجسٹریشن نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دھرانی کے نقائص بیان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے فائدہ کیلئے بھوبھارتی قانون تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد اراضیات سے محروم ہوگئے۔ نئے قانون کے مسودہ پر کابینہ میں مباحث کے بعد ویب سائیٹ پر پیش کرتے ہوئے عوامی رائے حاصل کی گئی۔ 33 ضلع کلکٹریٹس میں عوامی سماعت کی گئی۔ 18 ریاستوں کے اراضی قوانین کا جائزہ لیا گیا۔ طویل مشاورت اور عوام سے رائے حاصل کرنے کے بعد ہی نیا قانون تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے معاملہ میں اب کوئی بے قاعدگی نہیں ہوگی۔ انہوں نے تیقن دیا کہ اپوزیشن کی ترمیمات اور ان کی تجاویز کو قانون میں شامل کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ عوام کے مفاد میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل میں اراضی ریکارڈ تبدیل کرتے ہوئے کسانوں کو مالکانہ حق سے محروم کردیا گیا۔1