دھرم سنسد کی اشتعال انگیزی سنگین خطرہ

,

   

چیف جسٹس این وی رمنا کے نام 76 سرکردہ سپریم کورٹ وکلاء کا مکتوب

نئی دہلی : ہریدوار اور دہلی میں حال ہی میں منعقدہ دو مذہبی جلسوں کے موقع پر شرکاء کی جانب سے انتہائی اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل کی گئی جو ملک کے اتحاد و سالمیت کیلئے نہ صرف سنگین خطرہ ہے بلکہ کروڑوں مسلم شہریوں کی جان کیلئے بھی خطرہ ہے۔ سپریم کورٹ کے 76 سرکردہ وکلاء نے چیف جسٹس این وی رمنا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے نسل کشی اور اشتعال انگیز تقاریر پر ازخود نوٹ لیتے ہوئے کارروائی کی اپیل کی۔ اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے ناموں کی فہرست پیش کرتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ اس سلسلہ میں پولیس کی کارروائی کا فقدان ہے لہٰذا فوری طور پر عدلیہ کی مداخلت ضروری ہے تاکہ ایسے جلسوں کو روکا جاسکے۔ دہلی اور ہریدوار کے جلسوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے روانہ کردہ اس مکتوب پر نامور سپریم کورٹ کے وکلاء نے دستخط کئے ہیں جن میں دوشینت دیو، پرشانت بھوشن، ویریندا گرور، سلمان خورشید کے علاوہ پٹنہ ہائیکورٹ کے سابق جج انجنا پرکاش وغیرہ شامل ہیں۔ مکتوب میں لکھا گیا ہیکہ ان جلسوں میںکی گئی تقاریر ملک کے اتحاد اور سالمیت کیلئے سنگین خطرہ ہے جس میں ایک طبقہ کی نسل کشی کی اپیل کی گئی ہے۔

دھرم سنسد: مسلمانوں کو قتل کی دھمکی ملک کو توڑنے والا بیان :پیس پارٹی

اگر اس طرح کا بیان کسی اور نے دیا ہوتا تو اسے غدار کہتے ہوئے جیل میں ڈال دیا جاتا، حکومت خاموش تماشائی

پرتاپ گڑھ ۔ ملک میں دستور بچانے کے لیے جدوجہد اور حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے ،مگر کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو قتل کی دھمکی دے کر ملک توڑنے کی کوشش کرنے والوں پر حکومت و ایجنسیاں خاموش ہیں ۔آج ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی قانونی کارروائی بیان دینے والے فسطائی طاقتوں کے خلاف نہیں کیا جانا، یہ ثابت کرتا ہے کہ انتخاب کے سبب ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کی نیت سے زیر اقتدار بی جے پی کی سازباز سے ایک منظم سازش کے تحت بیان دیا گیا ،جس کے سبب حکومت و ایجنسیاں خاموش ہیں ،اور آئین و جمہوریت کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کر ان کی جیسے حوصلہ افزائ کی جارہی ہے ، جو ملک کے لیئے بہتر نہیں ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری بیان میں مبینہ دھرم سنسد میں دیئے گئے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو آئیں مخالف و ملک توڑنے والا بتایا ۔نے کہا کہ انتخاب کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا ہے ،ویسے ویسے فسطائی طاقتوں کا بیان جمہوریت ،آئین اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے خلاف آنا شروع ہوگیا ہے ۔بی جے پی کے تئیں عوامی اشتعال کو دیکھتے ہوئے اس کی حامی فسطائی طاقتیں اس حد پر اتر آئ ہیں کہ وہ کھلے عام مسلمانوں کے قتل کے لیئے ہندووں کو اکسانے کا کام کر رہی ہیں ۔اتراکھنڈ صوبہ کے ہری دوار میں نام نہاد مذہبی شخصیتوں کے ذریعہ ایک مبینہ دھرم سنسد کا اہتتمام گزشتہ روز کیا گیا تھا ،جہاں مسلمانوں کے قتل کی دھمکی اور ہندووں کو ہتھیار اٹھانے کے لیئے اکسایا گیا ، یہ بیان ملک توڑنے والا ہے ،جس پر مذکورہ صوبہ کی بی جے پی حکومت نے کوئ قانونی کارروائ نہیں کی ۔اگر آج اس طرح کا بیان کسی اور کا آیا ہوتا تو اس کو غدار ثابت کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہونچا دیا گیا ہوتا ،لیکن حکومت و سلامتی ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ کیا ملک توڑنے والا بیان دینے والے آئین و قانون سے اعلی ہیں ،اگر نہیں تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے ،اس کے برعکس قانون و آئین کی دھجیاں اڑانے والے فسطائی طاقتوں کے خلاف کارروائی نہیں کر حکومت ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ بی جے پی میں اگر ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو ایسے ملک توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائ کر یہ ثابت کرے کہ ملک کا قانون و آئین سب سے اعلی ہے ۔ یہ ملک سبھی کا ہے ، کسی کو دہشت پھیلانے کی آزادی نہیں ہونی چاہیئے ۔انہوں نے حکومت سے ملک ٹوڑنے والا بیان دینے والوں کے خلاف سخت کارروائ کا مطالبہ کیا ۔