دھماکہ متاثرین کو معاوضہ کب ملے گا؟ حکومت سے ہائیکورٹ کا سوال

   

سیگاچی کمپنی واقعہ پر مفاد عامہ درخواست، 54 مہلوکین کے پسماندگان کو ایک کروڑ کا وعدہ پورا نہیں ہوا
حیدرآباد 4 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے جولائی میں سنگاریڈی کی سیگاچی انڈسٹریز میں پیش آئے واقعہ کے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر کو نوٹس جاری کی ہے۔ عدالت نے حکومت سے سوال کیاکہ مہلوکین کے پسماندگان کے لئے اعلان کردہ ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ آخر کب ادا کیا جائے گا۔ ہائیکورٹ نے مہلوکین اور متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی پر جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ یکم جوبلی کو کمپنی میں دھماکہ کے نتیجہ میں تقریباً 54 ورکرس کی موت واقع ہوئی تھی اور کئی ورکرس زخمی ہوئے۔ معاوضہ کی عدم ادائیگی کی شکایت کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں کے بابو راؤ نامی شخص نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی۔ چیف جسٹس کے اجلاس پر آج سماعت ہوئی۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ دھماکہ میں 54 ورکرس کی موت واقع ہوئی اور 4 ماہ گزرنے کے باوجود کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ مہلوکین کے پسماندگان کو ایک کروڑ روپئے معاوضہ کا تیقن دیا گیا تھا لیکن ابھی تک یہ رقم ادا نہیں کی گئی۔ درخواست گذار نے کہاکہ کمپنی میں کئی خلاف ورزیوں سے عدالت کو واقف کرایا۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دھماکہ میں سیگاچی کمپنی کے نائب صدرنشین کی موت واقع ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں کمپنی کے موجودہ مالکین کی جانب سے معاوضہ کے سلسلہ میں تاخیر ہوئی ہے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے ایک کروڑ کی ادائیگی سے متعلق چیف جسٹس کے سوال پر کہاکہ پسماندگان کو 25 لاکھ روپئے حکومت کی جانب سے ادا کئے گئے اور باقی رقم کی کمپنی کی جانب سے ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا۔ پولیس نے تحقیقات کے سلسلہ میں 192 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں۔ ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر پولیس مزید کارروائی کررہی ہے۔ عدالت نے آئندہ 2 ہفتوں میں تفصیلی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دے کر سماعت کو ملتوی کردیا۔1