واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے اقدام میں امریکہ کے ملوث ہونے کے دعوے محض الزامات ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق بظاہر زبانی لغزش کی صورت میں وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب کے دوران، امریکہ کا نام مبینہ طور پر اس خط کے پس پردہ ملک کے طور پر لیا لیکن پھر جلدی سے خود کو درست کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی اور ملک ہے امریکہ نہیں۔میڈیا نے جب وزیر اعظم کے بیان پر تبصرہ کرنے کے لیے محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا تو ان کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے‘۔یہ حکومت کے سربراہ کے بیان پر غیر معمولی طور پر دو ٹوک تبصرہ ہے لیکن حال ہی میں اسلام آباد سے سامنے آنے والے الزامات سے واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی مایوسی کا اشارہ ملا ہے۔تاہم محکمے نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اس طرح کے الزامات کا امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اور امریکہ میں پاکستان کے سفارتی مشنز کے ساتھ رابطوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔واشنگٹن میں سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور امریکی حکام پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ میزبان ممالک کے سفارت خانے اور اہلکار اکثر غیر رسمی ملاقاتوں کا استعمال کرتے ہوئے وہ ’خیالات اور احساسات‘ پہنچاتے ہیں جو مناسب سفارتی ذرائع سے نہیں بھیجے جاسکتے۔