حیدرآباد :۔ ریاست تلنگانہ میں دھوبی گھاٹس کو ماڈرن بنانے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کے اقدامات پر اگر کوئی اشارہ ہو تو ، دھوبی گھاٹس کی حالت میں جلد ہی تبدیلی آسکتی ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاست ، بشمول ریاست کے دارالحکومت شہر حیدرآباد میں موجودہ دھوبی گھاٹس کو مینول واشنگ سے آٹو میٹک واشنگ مشینس کا استعمال کرنے والے بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور دھوبیوں کو ان مشینس کا استعمال کرنے کی ٹریننگ دی جارہی ہے ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ ہم نے ریاست بھر میں کئی گھاٹس کو آٹومیٹک واشنگ مشینس تقسیم کئے ہیں ۔ ان میں حیدرآباد کے گھاٹس شامل ہیں ۔ بعض گھاٹس کو ابھی یہ مشینس وصول نہیں ہوئے ہیں ۔ دھوبیوں کو آٹو میٹک واشنگ مشینس کا استعمال کرنے کی بھی ٹریننگ دی گئی ہے ‘ ۔ قبل ازیں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دھوبی طبقہ کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ریکارڈ رقم 250 کروڑ روپئے مختص کئے تھے ۔ حکومت نے گورنمنٹ ہاسپٹلس ، ہاسٹلس ، ہوٹلس اور دیگر فسیلیٹیز کے کپڑوں کی دھلائی کے لیے اس کمیونٹی کے ساتھ ایک کنٹراکٹ بھی کیا تھا ۔ کورونا وائرس وبا کے باعث ہاسپٹلس اور دیگر فسیلیٹیز میں محدود اکوپنسی کی وجہ سے اس میں انحطاط آگیا تھا لیکن اب اس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ ٹی ایس واشرمین فیڈریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر ایم چندر شیکھر کے مطابق شہر میں تقریبا 40 دھوبی گھاٹس ہیں ۔ یاقوت پورہ میں دھوبی گھاٹ ایریا میں تقریبا 200 خاندان رہتے ہیں ۔ جو نسل در نسل سے اس پیشہ سے وابستہ ہیں ۔ اس پیشہ میں 50 سال سے زیادہ رہنے والے ایک وٹیرن لکشمن نے اس وقت کو یاد کیا جب وہ شہر کی گلی کوچوں میں اپنی سیکل پر پھرتے ہوئے گھر گھر جاکر کپڑے حاصل کرتا تھا اور دھونے کے بعد انہیں گھروں کو پہنچایا کرتا تھا ۔ اس نے کہا کہ لیکن اب بہت تبدیلی ہوئی ہے ، لکشمن نے کہا کہ ’ تقریبا ہر گھر میں واشنگ مشین ہونے اور ہوٹلس اور ہاسپٹلس میں ان کے لانڈریز قائم کئے جانے کے ساتھ بزنس کم ہوگیا ہے تاہم چند پرانے وقتوں کے لوگ اب بھی ہم کو ترجیح دیتے ہیں ‘ ۔ لوور ٹینک بنڈ پر ، بدھا پورنیما دھوبی گھاٹ شہر میں ایک بہت قدیم روایتی اوین ایر لانڈری ہے لیکن یہاں دھوبیوں کو زیادہ آرڈرس نہ ملنے کی وجہ اس کی اہمیت گھٹ گئی ہے ۔ دھرم سنگھ نے کہا کہ ’ کپڑوں کو پہلے الگ الگ کیا جاتا ہے ۔ پھر انہیں چند گھنٹوں کے لیے صابن کے پانی میں بھگویا جاتا ہے ۔ اس کے بعد ہم کپڑوں کو پتھر پر مارتے ہیں ۔ چونکہ اب ندی صاف نہیں رہی ہے اس لیے ہم پھر کپڑوں کو نل کے پانی سے صاف دھوتے ہیں اس کے بعد انہیں سوکھانے کے لیے کلاتھ لائینس پر ڈالا جاتا ہے ۔ اس کے بعد کپڑوں پر استری کی جاتی ہے اور بعض کپڑوں کو ان کی ضرورت کے مطابق نیل دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دھوبی گھاٹ کو آٹو میٹک واشنگ مشینس تقسیم کرنے کے حکومت کے اقدام سے ان کی حالت میں بہتری آسکتی ہے ۔۔