دہشت گردی سے ترکیہ کی قومی سلامتی پالیسیکو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا

   

انقرہ: قومی سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ کی پرعزم قومی سلامتی پالیسی کو دہشت گرد تنظیموں کے بل بوتے تیار کیے گئے منصوبوں سے نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔صدر رجب طیب اردغان کی صدارت میں صدارتی کمپلیکس میں منعقدہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ترکیہ صدی کے دوران ، ترکیہ محور کے دائرہ کار میں،قومی سلامتی کیلئے اہم سیاسی، عسکری اور اقتصادی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور 2024 میں سامنا ہوسکنے کا احتمال ہونے والے معاملات سمیت اس فریم ورک کے اندر ہونے والی سرگرمیوں اور اٹھائے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ کونسل کو قومی اتحاد اور یکجہتی اور بقا کو درپیش ہر قسم کے خطرات بالخصوص دہشت گرد تنظیموں PKK/KCK، وائے پی جی، فیتو اور داعش کے خلاف اندرون و بیرون ملک عزم اور کامیابی کے ساتھ کی جانے والی کارروائیوں سے آگاہی کرائی گئی ہے۔”اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ترکیہ کی پر عزم طریقے سے عملدرآمد کردہ قومی سلامتی پالیسی کوپراجیکٹ دہشت گرد تنظیموں کے منصوبوں سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔