دہشت گردی کی فہرست سے نام خارج نہ کرنے امریکہ پر دباؤ

   

واشنگٹن : امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ارکان نے جوہری سمجھوتے کے معاملے اور ایرانی پاسداران انقلاب اور حوثی ملیشیا کے ناموں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے حوالے سے جو بائیڈن کی انتظامیہ پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔کانگریس میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن اور ریپبلکن سینیٹر بل ہیگرٹی کا کہنا ہے کہ ’’بائیڈن نے ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا جس کے بعد حوثی دہشت گردوں نے امریکہ کے حلیفوں پر حملے جاری رکھے۔ بائیڈن اب پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردی کی فہرست سے خارج کرنا چاہتے ہیں تا کہ ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ طے پا سکے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ادھر ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے ’’ایران انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں باور کرایا کہ انہیں پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد جماعتوں کی فہرست سے نکالے جانے کے امکان کے حوالے سے گہرے اندیشے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد جماعتوں کی فہرست سے کیوں نکالا جانا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس اقدام کے عوض ہمیں کیا ملے گا”۔کرس کونز کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کی پامالی ، خطے میں تشدد کا پھیلاؤ اور تہران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ان امور کو مذاکرات میں مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے باور کرایا کہ صرف جوہری قضیے پر توجہ مرکوز رکھنا کافی نہیں ، اچھے معاہدے میں ایران کی سرگرمیوں کے تمام پہلوؤں کو شامل کیا جانا چاہیے۔