مسٹر بھٹو کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملک کے ساتھ کیا جاتا ہے
پاکستان کا سرینگر سے تعلق نہ ہی پہلے کبھی تھا اور نہ آئندہ ہوگا
نئی دہلی: شنگھائی تعاون تنظیم، بعد ازاں پریس کانفرنس اور پاکستان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آئینہ دکھانے پر ان کے ہندوستانی ہم منصب ایس جے شنکر آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے الزامات کی بارش کردی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ ہند ایس جے شنکر نے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایس سی او کانفرنس میں وہی سلوک کیا گیا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملک کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق صحافی کے سوال پر وزیر خارجہ ہند نے کہا کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ تھا اور رہے گا۔ سری نگر سے پاکستان کا تعلق آئندہ ہوگا نہ ہی پہلے کبھی تھا۔ جے شنکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وہاں جی ٹوئنٹی اجلاس کے انعقاد پر اعتراض کو ہندوستان کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ جے شنکر نے الزام لگاتے ہوئے مزید کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک دہشت گردی کے سہولت کار ملک کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے معاملہ پر بات نہیں کر سکتے۔ ہم دہشت گردی کے معاملہ پر سفارتی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے بلکہ سفارتی سطح پر پاکستان کی اصلیت سامنے لا رہے ہیں جس کا ہمیں حق حاصل ہے۔ واضح رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ایس سی او کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان دہشت گردی کے معاملہ پر پوائنٹ اسکورنگ نہ کرے۔ اگر وہ سنجیدہ ہے تو اسے تعلقات بہتر کرنے کے لیے خود حالات سازگار کرنے ہوں گے۔
