دہشت گردی ہندوستان اور اسرائیل دونوں کیلئے باعث تشویش: اوم برلا

   

ہندوستان اور اسرائیل کی مشترکہ حکمت عملی، دہشت گردی کیخلاف جنگ کو ایک نئی سمت دے گی
نئی دہلی : نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین اور لوک کے اسپیکر کی مشترکہ دعوت پر اسرائیل کے نیسیٹ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر عامر اوہانا کی قیادت میں ایک اسرائیلی پارلیمانی وفد 31 مارچ سے 4 اپریل 2023 تک ہندوستان کا دورہ کررہا ہے ۔سرائیل کی پارلیمنٹ کے ا سپیکرعامر اوہانا کا اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد بیرون ملک کا یہ پہلا دورہ ہے ۔ وفد کے اراکین نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی۔ ہندوستان میں وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان روایتی طور پر قریبی اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں ۔ لوک سبھا کے اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل دونوں کی مضبوط جمہوری وراثت ہے اور ساتھی جمہوریتوں کے طور پر دونوں ممالک میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں جن میں متنوع ثقافتوں کا احترام، جمہوری اقدار کی پاسداری اور لوگوں کی امیدوں اور امنگوں کا احترام شامل ہے ۔ برلا نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لعنت کے بارے میں بات کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ دہشت گردی ہندوستان اور اسرائیل دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔برلا نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور اسرائیل جیسے جمہوری ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانا چاہیے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل کی مشترکہ حکمت عملی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کو ایک نئی سمت دے گی۔ہندوستان میں آباد یہودی برادری کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ یہودیوں کی حمایت کی ہے اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہودیوں نے ہندوستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔دونوں پارلیمانوں کے درمیان مضبوط پارلیمانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے Knesset میں ہندوستان کے لیے پارلیمانی دوستی گروپ کی تشکیل پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں پارلیمانوں کو بین الاقوامی فورمز پر مل کر کام کرنا چاہیے اور اس کے مطابق اجتماعی بات چیت اور مذاکرات پر مبنی ایکشن پلان تیار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں پارلیمانوں کو عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور مختلف حالات میں باہمی طور پر فائدہ مند نتائج کو یقینی بنانے کے لیے اپنے تجربات، بہترین طریقوں اور ٹیکنالوجی کا اشتراک کرنا چاہیے ۔مسٹر برلا نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کے دوران باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی دورے ہوتے رہے ہیں، جس نے ہمارے دو طرفہ تعلقات میں نئی توانائی ڈالی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سال 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل اور 2018 میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ہندوستان کے دورے کے بعد سے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔