تمام مسلمان مرکز نظام الدین کی تائید کریں: خالد سیف اللہ رحمانی
حیدرآباد 31 مارچ (پریس نوٹ) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دہلی میں مرکز اجتماع کے خلاف میڈیا کی مبینہ شرانگیزی کو فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی اور افسوسناک قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ میڈیا کو تو اس پر بحث کرنی چاہئے تھی کہ گورنمنٹ نے بالکل اچانک کیسے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا، کم سے کم اس کو 48 یا 72 گھنٹے کا وقت دینا چاہئے تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں دوسرے علاقوں کے جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں، خواہ وہ کسی مقصد کیلئے گئے ہوں ان کو اپنے گھر واپس آنے کا موقع ملتا، پھر لاک ڈاؤن شروع ہوتا، اسی وجہ سے پورے ملک میں جو مزدور ہیں وہ اِس وقت پریشانی سے دوچار ہیں۔ حکومت اگرچہ ان کے لئے سہولتوں کا اعلان کررہی ہے لیکن یہ سہولتیں ان تک نہیں پہنچ پارہی ہیں۔ اس پس منظر میں تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اس وقت مسلکی اور تنظیمی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر مرکز نظام الدین کی حمایت کریں اور ان کے موقف کو طاقت پہنچائیں اور ایسے نازک مواقع پر باہمی اختلافات پر مبنی تنقید و تبصرہ سے گریز کریں۔ مرکز نظام الدین کے مسئلہ کو اُبھارا جارہا ہے تو ہمیں بہت ہی حکمت عملی اور دانشمندی کے ساتھ اس مسئلہ پر اظہار خیال کرنا چاہئے اور غیر شعوری طور پر ان لوگوں کی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہئے جن کا اصل مقصد اسلام کو نقصان پہنچانا اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔