نئی دہلی، 8 جنوری (یو این آئی) دہلی اسمبلی میں جمعرات کو حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث کارروائی تین مرتبہ ملتوی کیے جانے کے بعد پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے ہنگامے کے دوران ہی اپوزیشن لیڈر کی جانب سے سکھ گرو کے خلاف مبینہ قابلِ اعتراض بیان سے متعلق ویڈیو کی فارنسک لیب سے جانچ کرانے اور پورے معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ اسپیکر نے پارلیمانی امور کے وزیر پرویش صاحب سنگھ کی تجویز پر اسمبلی اجلاس کی مدت میں ایک دن کی توسیع بھی کر دی۔ چار روزہ یہ اجلاس جمعرات کو اختتام پذیر ہونا تھا، جسے ایک دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے ۔ صبح 11 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی،بی جے پی کے اراکین نے گرو تیغ بہادر کے خلاف قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہنگامہ شروع کر دیا۔ کچھ اراکین ایوان کے بیچ میں آکر عام آدمی پارٹی (عآپ) کے خلاف نعرے لگانے لگے اور اسپیکر سے اپوزیشن لیڈر آتشی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے ارکان ’’گروؤں کا اپمان نہیں، نہیں سہیں گے ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ اسی دوران عام آدمی پارٹی کے اراکین بھی ایوان میں آ گئے اور انہوں نے بھی ہنگامہ شروع کر دیا۔ عآپ کے اراکین وزیر ثقافت کپل مشرا کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے اور ہاتھوں میں پوسٹر اور تختیاں اٹھا رکھی تھیں جن پر مشرا کے خلاف نعرے درج تھے ، تاہم عآپ کے اراکین ایوان کے وسط میں نہیں آئے ۔ دونوں جانب سے نعرہ بازی کے دوران اسپیکر گپتا نے اراکین سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی، مگر ہنگامہ جاری رہا۔ اس پر انہوں نے ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔ وقفے کے بعد جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو بی جے پی اور عآپ کے اراکین نے پھر ہنگامہ کیا۔ اس دوران بی جے پی کے اراکین سابق وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے خلاف جبکہ عآپ کے اراکین وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔
اور دونوں جماعتوں کے اراکین ایوان کے بیچ میں آ گئے ۔
