کلواکرتی میں سیاہ قوانین کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ، آر ڈی او کو یادداشت
کلواکرتی۔/26 فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانان کلواکرتی کی جانب سے موجودہ سیاہ قانون کے خلاف ایک ریالی کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ ریالی میں شامل افراد ہاتھوں میں ہندوستانی پرچم تھامے ہوئے تھے پولیس کی جانب سے کئی روز قبل ریالی کی اجازت حاصل کرلی گئی تھی۔ اس موقع پر آرڈی او آفس کے روبرو مختلف سیاسی اور سماجی کارکنوں نے احتجاجی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے پورے ملک میں ہندو مسلم فساد کرانے کے درپے ہے اور اس سیاہ قانون کو لاکر آپس میں تفریق پیدا کرنا چاہتی ہے جبکہ ہندوستان جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں اس سیاہ قانون کی شدت سے مخالفت کررہے ہیں مگر مرکزی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور وہ اس قانون کو ہرگز واپس نہ لینے بات کررہے ہیں۔ مقررین نے گزشتہ روز ہوئے دہلی کے مختلف مقامات پر حکومت اور پولیس کی پشت پناہی میں ہوئے فسادات کی سخت مذمت کی اور فوری طور پر وزیر داخلہ کو مستعفی ہونے کی مانگ کی اور لوگ اس فسادات میں شامل ہیں ان پر فوری قانونی کارروائی کی مانگ کی اور شرپسند عناصر جس میں بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈران شامل ہیں ان کو سلاخوں میں ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ اس سیاہ قانون کے مضر اثرات صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں خاص طور پر غریب اور متوسط افراد کو جھیلنا پڑے گا۔ آر ڈی او کلواکرتی راجیش کمار کو ایک یادداشت حوالے کی گئی جن میں این پی آر، سی اے اے اور این آر سی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر سماجی کارکن ریشما بیگم، مولانا عبدالوکیل، مولانا عبدالماجد، لکچرر جناب محمد، عبدالقادر، ریحانہ بیگم، سید مسعود اور دیگر شامل تھے۔