دہلی دھماکہ کیس میں عالمی کافی چین کو نشانہ بنانے کی سازش بے نقاب

   

نئی دہلی۔ 31 جنوری (ایجنسیز) دہلی کے تاریخی ریڈ فورٹ کے قریب گزشتہ برس 10 نومبر کو ہونے والے کار بم دھماکہ کی تفتیش میں مرکزی ایجنسیوں کو ایک بڑے دہشت گرد منصوبہ کا سراغ ملا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اس ماڈیول نے نہ صرف دہلی بلکہ دیگر بڑے شہروں میں ایک عالمی کافی چین کے آؤٹ لیٹس کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاسی اور نفسیاتی اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان اس عالمی برانڈ کو یہودی اثر و رسوخ کی علامت سمجھتے تھے کیونکہ عالمی سطح پر اس کی توسیع کے دوران اس کی قیادت ایک یہودی چیف ایگزیکٹو کے پاس رہی تھی۔ منصوبہ بند حملوں کو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جوڑ کر ایک سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ مسلسل پوچھ گچھ کے دوران یہ انکشاف آٹھ ملزمان سے ہوا، جن میں تین طبی شعبہ سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو ڈاکٹرز اور اتر پردیش کی ایک خاتون ڈاکٹر شامل ہے۔ ملزمان نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ ماڈیول کے اندر اہداف کے انتخاب پر شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ماڈیول کے کئی ارکان شہری مقامات کو نشانہ بنانے کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ کارروائیاں صرف جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز تک محدود رہیں۔ تاہم، کار بم حملہ آور کے طور پر شناخت کیے گئے شخص نے وادی سے باہر بڑے اور نمایاں اہداف پر حملے کے لیے زور دیا تاکہ عالمی توجہ حاصل کی جا سکے۔تفتیشی حکام کے مطابق عالمی کافی چین کے آؤٹ لیٹس کو نشانہ بنانے کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا تھا اور مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں، بالخصوص غزہ کی صورتحال، کو بنیاد بنا رہے تھے۔