دہلی سیٹ پر بی جے پی کی نظریں مرکوز

   

ہندوستان کے دارالحکومت میں کانگریس ، عآپ اور زعفرانی جماعت میں سہ رخی مقابلہ
نئی دہلی ۔ دہلی اسمبلی انتخابات کا بھلے ہی اعلان نہ ہوا ہو، لیکن سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے تمام 70 اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوارکھڑے کیے ہیں، جب کہ کانگریس نے بھی 21 سیٹوں پر ٹکٹوں کا اعلان کیا ہے۔ جب اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے چوتھی بار قسمت آزمائیں گے توکانگریس کے سابق ایم پی سندیپ ڈکشٹ ان کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔ بی جے پی نے ابھی تک اپنے کارڈ نہیں کھولے ہیں، لیکن پرویش ورما جو مغربی دہلی لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ تھے، اپنا دعویٰ پیش کر رہے ہیں ، لہذا دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی اس بار نئی دہلی سیٹ سے اپنا امیدوارکس کو کھڑا کرے گی۔ نئی دہلی اسمبلی سیٹ ہندوستان کے دارالحکومت میں اقتدار کی حالت اور سمت کا فیصلہ کرتی رہی ہے۔ نئی دہلی سیٹ سے جیتنے والی پارٹی دہلی میں برسراقتدار رہی ہے۔1993 کے انتخابات کو چھوڑکر، چھ انتخابات میں نئی دہلی سیٹ سے ایم ایل اے بننے والے کو چیف منسٹرکا تاج پہنایا گیا۔ شیلا ڈکشت 1998، 2003 اور2008 کے انتخابات میں نئی دہلی سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئیں اور پھرچیف منسٹر بنیں۔ اس کے بعد اروندکیجریوال 2013، 2015 اور2020 میں ایم ایل اے بنے اور پھر چیف منسٹرکے عہدے پر فائز رہے۔ ایسے میں سب کی نظریں نئی دہلی سیٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر اروند کیجریوال چوتھی بار نئی دہلی سیٹ سے قسمت آزمائیں گے توکانگریس نے سابق چیف منسٹر شیلا ڈکشت کے بیٹے سندیپ ڈکشت کو میدان میں اتارا ہے۔ دہلی کے دوسرے چیف منسٹر صاحب سنگھ ورما کے بیٹے اور مغربی دہلی لوک سبھا سیٹ سے دو بار بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے نئی دہلی سیٹ سے الیکشن لڑنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی قیادت نے انہیں نئی دہلی سیٹ سے الیکشن لڑنے کا گرین سگنل دے دیا ہے، لیکن پارٹی نے ابھی تک پرویش ورما کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ دہلی اسمبلی کے قیام کے بعد سے، بی جے پی صرف ایک بار نئی دہلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ سال 1993 میں کیرتی آزاد بی جے پی کے امیدوار کے طور پر ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے، لیکن اس وقت نئی دہلی سیٹ کو گول مارکیٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1998 میں کانگریس کی شیلا ڈکشت نے کیرتی آزاد کو شکست دی اور اس پر قبضہ کر لیا، تب سے بی جے پی ہر الیکشن میں نئی دہلی کی سیٹ پر اپنا امیدوار بدلتی رہی ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی جیت نہیں پائی۔