دہلی شراب اسکام ، ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا گرفتار

,

   

8 گھنٹوں تک پوچھ تاچھ اور جوابات سے غیرمطمئن سی بی آئی کی کارروائی

نئی دہلی: سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کو شراب کے معاملے میں گرفتار کرلیا۔ اتوار کی صبح سے ای ڈی کے عہدیدار ان سے پوچھ تاچھ کر رہے تھے۔ اس موقع پر منیش سیسودیا نے میڈیا کو بتایا کہ امکان ہیکہ انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ منیش سیسوڈیا کی سی بی آئی آفس میں پوچھ تاچھ کیلئے آمد کے موقع پر دہلی کے کئی حصوں میں ٹریفک کو موڑ دیا گیا ہے۔ سیسوڈیا کی گرفتاری کے پیش نظر دہلی میں سی بی آئی کے مرکزی دفتر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس علاقہ میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا۔ سیسودیا نے شراب کی پالیسی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم، سی بی آئی حکام نے کہا کہ انہوں نے اس اسکام سے متعلق بیوروکریٹ کے بیان کی بنیاد پر سیسوڈیا کو گرفتار کیا ہے۔سی بی آئی حکام نے دہلی شراب پالیسی 2021-22ء کی تیاری میں مبینہ بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کے سلسلہ میں منیش سیسوڈیا سے تقریباً 8 گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی۔ سی بی آئی حکام کا کہناہیکہ پوچھ تاچھ کے دوران منیش سیسوڈیا کے جوابات سے وہ غیرمطمئن تھے جس کے بعد انہیں گرفتار کیاگیا۔ سی بی آئی کا یہ بھی کہنا ہیکہ منیش سیسوڈیا نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا ہے۔ منیش سیسوڈیا نے کہا کہ ان سے انتقام لینے کیلئے بی جے پی نے تحقیقاتی ایجنسی استعمال کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے منیش سیسوڈیا کی گرفتاری پر کہا کہ آج جمہوریت کیلئے سیاہ دن ہے۔ عام آدمی پارٹی لیڈر سنجے سنگھ نے ٹوئیٹ کرکے مودی حکومت کو تاناشاہ قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ لاکھوں کروڑوں کا غبن کرنے والے گوتم اڈانی کو گرفتار کرنے کی آپ کے پاس ہمت ہے۔
اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر لکھا ہیکہ فرضی مقدمہ میں دنیا کے بہترین وزیرتعلیم منیش سیسوڈیا کو گرفتار کیا گیا ہے جو دہلی کے لاکھوں بچوں کا مستقبل سنوار رہے تھے۔