ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی مالی مدد ، ای ۔ رکشہ کی خریدی ، فسادات میں تباہ خاندان پھر پیروں پر کھڑا ہوگیا
حیدرآباد : حیدرآبادیوں کی محبت ، مروت ، مہمان نوازی ، دریادلی ، ہمدردی ، دردمندی ، انسانیت اور انسانیت نوازی کے بہت چرچے سنے تھے لیکن دہلی فسادات میں تباہ و برباد ہونے کے بعد جن لوگوں نے دست تعاون روانہ کیا ان میں حیدرآبادیوں کی اکثریت تھی ۔ اس ضمن میں حیدرآباد سے شائع ہونے والے اردو اخبار روزنامہ ’سیاست‘ کے ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جن کے توسط سے حیدرآباد کے نیک دل عوام نے متاثرین فسادات کی بھرپور مدد کی جس کیلئے ہم حیدرآبادیوں کو سلام کرتے ہیں اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کے ساتھ فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار عباس علی ولد عبدالمجید نے کیا ۔ اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’ میرا نام عباس علی ہے اور ہم B-4 بھگراتی وہار نالا روڈ دہلی 110094 میں رہتے ہیں ۔ 25فبروری کو فسادات کے دوران میں اور میری بیٹی گھر میں پھنس گئے ، اس وقت اشرار قریب کے مکانات دکانات وغیرہ کو نذرآتش کررہے تھے ۔میں نے فوری اپنے گھر کے دروازہ کو بند کر کے قفل لگادیا لیکن اشرار جو ہیلمٹس پہنے ہوئے تھے میرے گھر کے دروازہ کو توڑنے اور پھر جلانے کی کوشش کی ۔ میں اور میری بیٹی اس خطرناک صورتحال سے خوف میں مبتلا ہوگئے لیکن پڑوسیوں نے ہمیں بچالیا اور کسی نہ کسی طرح ہم پڑوسیوں کی چھت پر پہنچ گئے ۔ ایک طرف تو ہم باپ بیٹی بچ گئے لیکن فسادیوں نے گھر کو آگ لگادی ، سارا سامان جل کر خاکستر ہوگیا جس میں میرا ای رکشہ اور موٹر بائیک بھی شامل تھی ، وہ ای ۔ رکشہ میرا بیٹا چلایا کرتا جس سے یومیہ کچھ آمدنی بھی ہوجاتی ۔ بہرحال سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی مدد سے اور ان کی جانب سے دی گئی رقم سے میں نے ایک نیا ای ۔ رکشہ خریدا اور لاک ڈاؤن کے دوران غذائی اشیاء و راشن خریدنے کیلئے رقم خرچ کی ۔ آج حال یہ ہے کہ دن بہ دن ہماری زندگی کے حالات ٹھیک ہورہے ہیں جس کیلئے ہم سب سے پہلے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجالاتے ہیں اور پھر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان ان کے ملت فنڈ اور جناب افتخار حسین اور فیض عام ٹرسٹ کے ساتھ حیدرآبادی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور بارگاہ رب العزت میں دعا کرتے ہیں کہ ہر کسی کو فسادات اور انسانیت کے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔ ( آمین) ۔ اس سلسلہ میں ہماری عباس علی کے فرزند آصف سے بات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ای ۔ رکشہ کے ذریعہ ان کے بھائی کو یومیہ 300 تا 400 روپئے کی آمدنی ہوجاتی ہ جبکہ وہ خود خانگی ملازمت کرتے ہیں ،دوسرا بھائی طالب علم ہے ۔