نئی دہلی: دہلی پولیس نے عدالت میں داخل کردہ چارج شیٹ میں کہا ہیکہ دہلی کے فسادات دہشت گردانہ کارروائی تھی۔ فبروری میں ہوئے فسادات میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کیلئے بڑے پیمانے پر سازش کی گئی تھی۔ جے این یو کے طالب علم عمر خالد، ریسرچ اسکالر شرجیل امام اور فیضان خان کے خلاف داخل کردہ ضمنی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا ہیکہ فسادات بھڑکانے کیلئے لوگوں کو اکسایا گیا۔ اس کیس میں آتشیں اسلحہ، پٹرول بمس، تیزابی حملے کیلئے مہلک ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس عملہ کو نشانہ بنایا گیاجس کی وجہ سے ایک پولیس ملازم ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ دہلی پولیس نے مزید کہا کہ فسادات سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے بھی رکاوٹیں پیدا کردی گئیں۔ ضروری اشیاء کی سربراہی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔