دہلی فسادات ‘شہریان حیدرآباد کے جذبہ ملی کا جواب نہیں

,

   

سیاست ملت فنڈ وفیض عام ٹرسٹ کی مدد مثالی‘محمد امجد کے موبائیل رپیرنگ شاپ کا دوبارہ آغاز
حیدرآباد۔ دہلی فسادات میں منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، انہیں شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔ ان کے گھر جلائے گئے، کاروبار کو لوٹا گیا، نذرآتش کیا گیا اور امیر چند گھنٹوں میں فقیر بن گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا لیکن اُن سنگین اور خطرناک حالات میں ساست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے آگے بڑھ کر ہمیں تھام لیا جس کے نتیجہ میں ہم نے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ نے ہماری جو مدد کی اس کیلئے سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہماری مدد کیلئے شہریان حیدرآباد کے ہمدردان ملت اور جناب زاہد علی خاں و جناب افتخار حسین کا انتخاب کیا۔ ہم دہلی فسادات کے متاثرین اپنی دعاؤں میں اپنے تمام ہمدردان ملت کو یاد رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دہلی کے ایک مصروف بازار میں موبائیل فونس کی رپیرنگ کی دکان چلانے والے محمد امجد ولد محمد کلیم نے کیا۔ انہوں نے بتایا ’ میں C-430 گلی نمبر 29، کھجوری خاص دہلی میں رہتا ہوں اور موبائیل رپیرنگ کا کام کرتا ہوں۔ فسادات سے پہلے میں تمام موبائیل فونس اور رپیرنگ میں استعمال ہونے والا سامان اپنے گھر میں لالیا تھا اور گھر سے ہی کام کررہا تھا۔ اللہ کے فضل سے میرا کاروبار اچھا چل رہا تھا اور ہمارا خاندان ایک تین منزلہ عمارت میں رہتا ہے۔ 25 فروری کی بھیانک رات کے بارے میں ہم نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے گا۔

اس وقت ہمیں لوگوں کے چیخنے چلانے اور رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ہم نے سوچا کہ ہم تمام ایک کے بعد دیگرے موت کے منہ میں پہنچ جائیں گے لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم بچ گئے ۔ نیم فوجی فورس نے ہمیں فسادیوں کی زد میں آنے سے بچاکر وہاں سے نکال لیا تاہم ان فسادیوں نے ہمارے گھروں کو لوٹ لیا اور آگ لگادی۔ ہر چیز آگ کی نذر ہوگئی جس میں میرے تمام فونس و رپیرنگ میں استعمال ہونے والا سامان شامل تھا۔فسادات میں میرا تقریباً 9 لاکھ روپئے کا نقصان ہوا۔ اللہ ذوالجلال کا شکر ہے کہ عین وقت سیاست ملت فنڈاور فیض عام ٹرسٹ نے میری مالی مدد کی جس کے باعث میں موبائیل رپیرنگ دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہوا۔‘‘ قارئین‘ آپ کو بتادیں کہ ’ سیاست ‘ سے بات کرتے ہوئے امجد نے بتایا کہ فسادات سے پہلے وہ یومیہ 5 تا 6 ہزار روپئے کمایا کرتے تھے لیکن اب حالات بالکل تبدیل ہوچکے ہیں ، کاروبار پوری طرح شروع نہیں ہوا ہے لیکن ایک مرتبہ کاروبار چل پڑا تو تمام مالی مشکلات بھی انشاء اللہ دور ہوجائیں گی۔ امجد کے مطابق انہوں نے نوئیڈا میں نئی دکان شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں اللہ سے اُمید ہے کہ کاروبار پہلے کی طرح چل پڑے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اُن کے سات بھائی اور تین بہنیں ہیں جبکہ وہ خود تین بیٹیوں کے باپ ہیں جو بالترتیب5ویں، تیسری اور یو کے جی میں زیر تعلیم ہیں۔ محمد امجد تقریباً2005 سے موبائیل فون رپیرنگ شاپ چلاتے ہیں۔ ان کے خیال میں سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی فلاحی تنظیموں کیلئے ایک مثال ہے اور شہریان حیدرآباد کا تو جواب ہی نہیں۔