کیس میں تمام ملزمین کے کردار یکساں نہیں ۔ گلفشاں ، حیدر، رحمن ،شاداب اور سلیم کو سخت شرائط کیساتھ ضمانت
نئی دہلی ۔ 5 جنوری ۔ (یو این آئی ۔ ایجنسیز ) سپریم کورٹ نے دہلی فسادات سے متعلق ایک اہم فیصلے میں سات ملزمان میں سے پانچ کو ضمانت دے دی، جبکہ شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نے تمام ملزمان کے کردار کا الگ الگ جائزہ لیا ہے اور ہر ایک کے خلاف موجود شواہد کو علیحدہ بنیاد پر پرکھا گیا ہے۔جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے پیر کو اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین میں دیا گیا زندگی کا حق اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔، تاہم یہ حق قانون اور دستیاب شواہد سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ عدالت کے مطابق تفتیشی ادارے کی جانب سے پیش کردہ مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرجیل امام اور عمر خالد کا کردار دیگر ملزمان کے مقابلے میں مختلف اور زیادہ سنگین نوعیت کا ہے۔عدالت نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا عرف رحمان،شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی رہائی سخت شرائط کے ساتھ مشروط ہو سکتی ہے۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ملزمان کو ایک ہی معیار پر پرکھنا درست نہیں، کیونکہ ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ سب کے کردار یکساں نہیں ہیں۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شرجیل امام اور عمر خالد اہم گواہوں کے جرح مکمل ہونے کے بعد یا اس حکم کے ایک سال گزرنے پر ٹرائل کورٹ میں دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔ عدالت نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ آیا تمام ملزمان کو مسلسل حراست میں رکھنا واقعی ضروری ہے یا نہیں۔سپریم کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمی کی تعریف صرف مسلح تشدد تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع ہے۔ عدالت نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ قانون ساز ادارے نے اس شق کو جان بوجھ کر وسیع رکھا ہے تاکہ مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا جا سکے۔واضح رہے کہ عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان پر 2020 کے دہلی فسادات کو منظم کرنے اور بھڑکانے کی سازش کا الزام ہے۔ یہ تمام افراد پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں بند ہیں۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت آیا۔یہ معاملہ فروری 2020 میں شہریت ترمیمی قانون اور قومی رجسٹر برائے شہریت کے خلاف احتجاج کے دوران شمال مشرقی دہلی میں پھوٹنے والے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ہے، جو کئی دن تک جاری رہا۔ ان فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔پولیس کے مطابق مجموعی طور پر بیس افراد کو مبینہ بڑی سازش کے تحت ملزم بنایا گیا، جن میں سابق بلدیاتی نمائندہ طاہر حسین بھی شامل ہے۔ دہلی پولیس نے بارہا عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ واقعات اچانک احتجاج نہیں تھے بلکہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ تھے۔دوسری جانب، عمر خالد نے پہلے بھی الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف شواہد گھڑے گئے ہیں اور مقدمہ بے بنیاد ہے۔ ان کے وکیل نے عدالت میں کہا تھا کہ استغاثہ پہلے کسی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرتا ہے اور پھر اس کے مطابق مواد تیار کیا جاتا ہے۔
