ایک دن میں 7500 کال موصول ہوئے، پولیس کے رویہ پر سوالیہ نشان
نئی دہلی 28 فروری (سیاست ڈاٹ کام )دہلی تشدد کے دوران مسلسل گھنگناتی رہی پی سی آر کی گھنٹی، ایک دن میں 7500 کالشمال۔مشرقی دہلی کے بھاگیرتی وہار میں تشدد پر قابو تو پالیا گیا ہے۔ نئی دہلی: راجدھانی کے شملا۔مشرقی علاقے میں ہوئے تشدد کے دوران دہلی پولیس کے ایکشن میں نہ رہنے کو لیکر سوال اٹھ رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں سے لوگ مسلسل کال کرکے پولیس کو اطلاع دیتے رہے اور موقع پر آنے کی گہار لگاتے رہے لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ آتشزنی اور تشدد سے ڈرے لوگوں نے بار۔بار پی سی آر
(PCR)
کو کال کرکے واقعات کی اطلاع دی تھی۔ دہلی پولیس کے مطابق 24 اور 25 فروری کو پی سی آر کو سب سے زیادہ کال ہوئی۔دہلی پولیس پی سی آر (PCR) یونٹ کے ڈی سی پی شرد سنہا کے مطابق تشدد والے دو اہم دن 24 اور 25 فروری کو بہت زیادہ پی سی آر کال نارتھ۔ایسٹ ضلع سے کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 23 تاریخ کو تقریبا 700
PCR
کال نارتھ ایسٹ ضلع سے کی گئیں۔ جبکہ 24 فروری کو تقریبا 3500 کال پی سی آر کے پاس نارتھ۔ایسٹ ضلع سے ہوئی۔کئی گھروں، دکانوں اور گاڑیوں سے دھواں نکل رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بدھ کی صبح بھگیرتی وہار کے قریب پانچ مکانات کو آگ لگا دی گئی۔تشدد کے واقعات کے درمیان 25 فروری کو سب سے زیادہ کال کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ دہلی پولیس کے آدیشیل بیان کے مطابق تقریبا 7500
PCR
25 تاریخ کوئیں۔ جبکہ 26 تاریخ کو 1500 سے زیادہ مرتبہ پی سی آر میں کال کرکے لوگوں نے تشدد اور آگ زنی اور اپنی مشکلوں سے دہلی پولیس کو واقف کرایا۔اس درمیان اطلاع مل رہی ہے کہ دہلی کے تشدد متاثرہ شمال۔مشرقی ضلع کے کھجوری خاص اور دیال پور علاقوں میں سکیورٹی فورزس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس فساد متاثرہ علاقوں میں مسلسل فلیگ مارچ کررہی ہے