برنداکرت کی درخواست پر مرکز اور پولیس کو دہلی ہائیکورٹ کی نوٹس، اندرون چار ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت
نئی دہلی 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائی کورٹ نے سی پی آئی (ایم) لیڈر برندا کرت کی دائر کردہ درخواست پر قدم اُٹھاتے ہوئے حکومت دہلی اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس شہر کے شمال مشرقی حصوں میں حالیہ تشدد کے ضمن میں گرفتار شدہ افراد کی فہرست جاری کی جائے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر نے کرت کی درخواست پر دہلی حکومت اور پولیس کو یہ ہدایت کی کہ گرفتار شدگان کی فہرست جاری کرتے ہوئے ضلع کے تمام پولیس اسٹیشنوں اور پولیس کنٹرول روم کے باہر فہرست لگائی جائے۔ سی اے اے کے مسئلہ پر شمال مشرقی دہلی میں حالیہ تشدد کے دوران کم سے کم 44 افراد ہلاک اور دیگر 200 زخمی ہوگئے تھے۔ سی پی آئی (ایم) لیڈر برندا کرت نے اس تشدد کو ’حکومت کے زیرسرپرستی منظم کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ اس کے دعوے کے مطابق درج کردہ 500 ایف آئی آر کے بارے میں ویب سائٹ پر تمام تفصیلات درج کی جائیں۔ درخواست میں عدالت سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں سرکاری اہلکاروں، ریاپڈ ایکشن فورسیس اور پولیس فورسیس کے ارکان کی طرف سے کئے جانے والے مبینہ جرائم و مظالم کی تمام شکایات کا بھی کسی آزاد ادارہ یا ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائیں۔ کرت نے یہ بھی کہاکہ متاثرین کو انصاف پہونچانے کے لئے اس مرحلہ پر عدالتی قواعد اور فوجداری ضابطہ پر پولیس کو مؤثر عمل آوری شفافیت و جوابدہی کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ اُنھوں نے یہ الزام بھی عائد کیاکہ اس علاقہ کے متاثرین سے موصولہ شکایات سے انکشاف ہوا ہے کہ پولیس بدترین حد تک ناکام ہوگئی ہے جس سے اُس کی غفلت و لاپرواہی کا ثبوت ملتا ہے۔ برندا کرت نے کہاکہ ’عوام میں ہنوز ڈر و خوف کا احساس ہے چنانچہ صورتحال ہنوز معمول کے مطابق نہیں ہوتی ہے‘۔
دہلی تشدد، دو گرفتار شدہ افراد کی عدالتی میں پیشکشی
نئی دہلی 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے دوران گرفتار شدہ دو افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ دہلی ہائیکورٹ کو آج اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔ جسٹس سدھارتھ مریدول اور جسٹس آئی ایس مہتا درخواست گذار کے وکیل کی طرف سے مطلع کیا گیا ہے کہ ان کے دو بھائیوں کو پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں لیا گیا ہے۔ وکیل نے کہاکہ ان دونوں کو اُس روز عدالت میں پیش کیا گیا جس دن اُنھوں نے ہائی کورٹ میں درخواست پیش کی تھی۔ کراول نگر کے فیروز خاں نے ان کے دو بھائیوں محمد صابر اور بھورے خاں کی رہائی کیلئے درخواست دائر کی ہے۔