دہلی فساد :سکھوں کا مسلمانوں کی مدد کرنا فطری عمل

   

فسادات کے درد کا سکھ برادری کو خوب اندازہ ،متاثرین کو سکھوں کا سہارا
نئی دہلی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمال مشرقی دہلی میں گذشتہ ماہ کے سنگین تشدد میں خصوصیت سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سب سے بڑی اقلیتی برادری کا بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس مصیبت کی گھڑی میں انہیں ابنائے وطن میں سے کسی کا ساتھ ملا تو وہ سکھ کمیونٹی ہے۔ سکھوں کے خلاف 1984ء کے فسادات بہت شدید رہے۔ اس کا درد سکھ برادری بھلائے نہیں بھولتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہیکہ دہلی کے متعدد علاقوں میں شرپسندوں نے جب مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا تو اجڑی بستیوں میں متاثرین کی مدد کرنے کیلئے سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سکھ افراد شامل ہیں۔ دہلی کے تشدد سے سارا معاملہ مخالف سی اے اے احتجاج اور اس کے مرکز شاہین باغ کے علاوہ دہلی اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی واضح شکست کے انتقام کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دو سکھ مہیندر سنگھ اور ان کا بیٹا اندرجیت سنگھ نے اپنی بائیک اور اسکوٹی کے ذریعہ زائد از 60 مسلمانوں کو تشدد کے دوران محفوظ مقامات کو منتقل کیا۔ شہر کے اکال تخت جٹھیدار نے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اکال تخت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ شاہین باغ میں بھی سکھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر لنگر لگائے ہیں۔ کہیں نہ کہیں سکھوں کو بھی اندیشہ ہیکہ شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ انہیں بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس لئے وہ مخالف سی اے اے احتجاجوں میں مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ سکھوں کے یگانگت پر بعض گوشے سوال اٹھا رہے ہیں لیکن سکھ کمیونٹی اپنے عمل میں ثابت قدم ہے۔