دہلی فساد : لواحقین کو نعشوں کے حصول میں دقت کا سامنا

,

   

نئی دہلی ۔ 27 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے بدترین فساد کو کئی مسلمان اور چند ہندو اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ان کے خاندانوں کے لئے یہی نقصان کیا کم ہے کہ ان کو دواخانوں سے اپنوں کی نعشیں حاصل کرنے کیلئے تک جدوجہد کا سامنا ہورہا ہے۔ 36 سالہ حنا کے ہاتھوں کی مہندی ابھی مٹی نہیں، اس نے 14 فروری کو بلند شہر میں اپنے بھانجے کی شادی میں شرکت کی تھی، 22 سالہ دولہا تقریباً 150 افراد کے ہجوم کا شکار ہوگیا ۔ اس کی 20 سالہ دلہن یہ خبر سنتے ہی بیہوش ہوگئی اور کسی طور اس پر یقین کرنے تیار نہیں لیکن یہ حقیقت ہے ۔ فیملی والے جب گرو تیغ بہادر ہاسپٹل پہنچے تو وہاں افراتفری کا ماحول تھا، وہ اپنے رشتہ دار کی نعش کا پتہ چلانے مردہ خانہ گئے لیکن وہاں عملاً بھگدڑ کا ماحول تھا۔ یہ صرف حنا کی فیملی کا حال نہیں بلکہ وہاں پر کئی خاندان اپنوں کی نعشیں حاصل کرنے پریشان دکھائی دیئے ۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سنیل کمار نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینا پولیس اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے۔ ہم ہر معاملہ میں اپنے طور پر پوسٹ مارٹم نہیں کرسکتے۔