دہلی فساد معاملے کی سماعت کرنے والے کرکرڈوما سیشن عدالت کے جج ونود یادو نے نا کافی ثبوت و شواہد اور ناقص تفتیش کی بنا پر تین مسلم نوجوانوں کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا یعنی اب ان ملزمین کو مقدمہ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ملزمین میں عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین کے بھائی شاہ عالم کے ساتھ راشد سیفی اورشاداب شامل ہیں،عدالت نے انہیں مقدمہ سے بری کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ”دہلی پولس کی ناقص و ناکام تفتیش کی وجہ سے دہلی فساد تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ،اسی دوران دہلی ہائی کورٹ نے بھی دوملزمین فرقان اور صالحین کی ضمانت منظورکرلی ہے۔ اس پر اپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہم تو پہلے دن سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ دہلی پولس نے جانبدارانہ تفتیش کی اور مسلمانوں کو گرفتار کیا، عدالت نے خود اس بات کو نوٹ کیا کہ دہلی پولس نے نہایت ناقص تفتیش کی ہے۔ خصوصی جج کے تبصرے سے ہمارے موقف کو تقویت ملی ہے کہ دہلی فسادات میں مسلمانوں کی جان و مال کو لوٹا گیا اور پھر انہیں ہی گرفتارکرلیا، مولانا مدنی نے کہا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ دہلی فسادمیں جو مظلوم ہیں جس پر ظلم ہوا پولس نے اسے ہی ظالم اورمجرم بناکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا جبکہ اس فسادکی سازش رچنے والے آج بھی آزادگھوم رہے ہیں…