آلودگی پر سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد نئی منصوبہ بندی
حیدرآباد۔27نو مبر(سیاست نیوز) نئی دہلی میں ماحولیاتی آلودگی اور خطرناک فضائی آلودگی پر قابو پانے کی ہدایات کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر حیدرآباد کو ملک کا دوسرا صدر مقام بنائے جانے کے سلسلہ میں غور کیا جانے لگا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہ کئے جانے کی اطلاعات کے علاوہ مرکزی وزراء کی جانب سے حیدرآباد کو دوسرا صدر مقام بنائے جانے کی اطلاعات کی تردید کے درمیان یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دہلی کی فضائی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے سلسلہ میں ہدایات کے بعد حکومت نے اس منصوبہ پر دوبارہ غور کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر حیدرآباد کو ملک کا دوسرا صدر مقام بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حیدرآباد کو مرکزی زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کیا جائے گا ۔مرکز میں موجود نریندر مودی حکومت کی جانب سے گذشتہ 6برسوں کے دوران لئے گئے سخت فیصلوں کو دیکھتے ہوئے سیاسی ماہرین کاکہناہے کہ نریندر مودی فیصلوں کے نتائج کی پرواہ کئے بغیر فیصلہ کرنے کے عادی ہیں جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔کرنسی تنسیخ ‘
کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی ‘ بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ یا طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ہو ان تمام معاملات میں حکومت نے انجام کی پرواہ کئے بغیر صورتحال پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب جبکہ سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے دہلی میں ماحولیاتی اور فضائی آلودگی کی تباہ کن صورتحال پر برہمی ظاہر کی جانے لگی ہے تو ایسی صورت میں حکومت کی جانب سے ملک کے دارالحکومت کو آلودگی سے پاک بنانے کے اقدامات کے طور پر نئے دارالحکومت کے قیام پر غور کیا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت ہند اس مسئلہ پر متعدد مرتبہ غور کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرچکی ہے اور مرکزی وزراء نے بھی اس بات کا دعوی کیا کہ مرکزی حکومت کے زیر غور ایسی کوئی تجویز نہیں ہے لیکن اب دہلی کی ماحولیاتی آلودگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریہ کے طور پرحیدرآباد کو دوسرے دارالحکومت کی طرح فروغ دیا جائے گا ۔ ماہرین کا کہناہے کہ ملک میں حیدرآباد سے زیادہ بہتر اور محفوظ کوئی شہر نہیں ہے جسے ملک کا دوسرا دارالحکومت بنایا جاسکے اور اس معیار کا انفراسٹرکچر تیار کرتے ہوئے سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔